اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے سیکٹر ایف 17 میں اہم ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے زمین ایکوائر کرنے کی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں، جس کے بعد مقامی آبادی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق سی ڈی اے مارگلہ ایونیو کو موٹروے سے ملانے، اولڈ جی ٹی روڈ کے ساتھ رابطہ بہتر بنانے اور علاقے میں انڈر پاس و بائی پاس کی تعمیر کے منصوبوں پر پیش رفت کر رہا ہے، ان منصوبوں کی تکمیل کے لیے نجی اراضی کے حصول کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
انتظامیہ نے سیکشن فور کے تحت متاثرہ علاقوں کے مکینوں کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں جبکہ متعدد گھروں اور املاک کی نشاندہی بھی شروع کر دی گئی ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ کئی رہائشی مکانات پر نشانات لگا دیے گئے ہیں جس سے لوگوں میں بے دخلی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
علاقہ مکینوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مجوزہ منصوبوں کے باعث متعدد خاندان متاثر ہو سکتے ہیں، ان کا مؤقف ہے کہ ترقیاتی کام عوامی مفاد کے لیے ضروری ہیں، تاہم متاثرہ شہریوں کے حقوق اور متبادل انتظامات کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔
دوسری جانب سی ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ مارگلہ ایونیو اور موٹروے کے درمیان بہتر رابطہ قائم ہونے سے اسلام آباد اور گردونواح کے علاقوں میں ٹریفک کے مسائل میں کمی آئے گی اور شہریوں کو جدید سفری سہولیات میسر آئیں گی، حکام کے مطابق تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے زمین ایکوائرنگ کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
متاثرہ آبادی نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ منصوبے کے حوالے سے شفاف معلومات فراہم کی جائیں اور جن شہریوں کی زمین یا مکانات متاثر ہوں، انہیں مناسب معاوضہ اور متبادل سہولیات فراہم کی جائیں۔
مقامی حلقوں کے مطابق آئندہ چند ہفتوں میں زمین ایکوائرنگ اور سروے کے عمل میں مزید تیزی متوقع ہے، جس کے باعث ایف 17 میں ترقیاتی منصوبہ اور اس کے ممکنہ اثرات بدستور عوامی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

