اسلام آباد (سپیشل رپورٹر)، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ قائد اعظم انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد میں مبینہ غیر قانونی گردہ ٹرانسپلانٹ کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے دو ملزمان سجاد اور صابرہ بی بی کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستیں خارج کر دیں، ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے درخواستوں پر سماعت کے بعد فیصلہ سنایا، عدالتی کارروائی کے دوران ملزمان کی جانب سے وکیل غلام مصطفیٰ بلوچ نے دلائل پیش کیے اور مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکلوں کو ضمانت کا ریلیف دیا جائے، تاہم عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواستیں مسترد کرتے ہوئے دونوں ملزمان کی ضمانت بعد از گرفتاری خارج کر دی۔
تحقیقاتی اداروں کے مطابق سجاد اور صابرہ بی بی مبینہ طور پر ڈونر میاں بیوی ہیں اور ان کا نام غیر قانونی گردہ ٹرانسپلانٹ نیٹ ورک کی تحقیقات میں سامنے آیا ہے، ذرائع کے مطابق مقدمہ قائداعظم ہسپتال میں مبینہ غیر قانونی گردہ ٹرانسپلانٹ اور انسانی اعضا کی غیر قانونی پیوندکاری کے الزامات کے تحت زیرِ تفتیش ہے۔
عدالتی فیصلے کے بعد دونوں ملزمان بدستور جوڈیشل تحویل میں رہیں گے، جبکہ کیس میں نامزد دیگر ملزمان کے خلاف بھی تحقیقات کا عمل جاری ہے، تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ مقدمے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، غیر قانونی گردہ ٹرانسپلانٹ کیس کو انسانی اعضا کی غیر قانونی خرید و فروخت کے حوالے سے ایک اہم مقدمہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کی آئندہ سماعت پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔

