اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیر صدارت شروع ہوا، جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے مالی معاملات، پی ایس ایل کے ڈھانچے اور اسٹیڈیمز کی تعمیر و مرمت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی، اجلاس کے دوران چیف آپریٹنگ آفیسر سمیر احمد نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ملازمین کی تنخواہوں سے متعلق کمیٹی کو آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سینئر افسران کی تنخواہیں 12 سے 24 لاکھ روپے ماہانہ کے درمیان ہیں۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) مکمل طور پر فرنچائز ماڈل پر چلتی ہے۔ حکام کے مطابق اس وقت لیگ میں 8 ٹیمیں شامل ہیں، جن میں ساتویں ٹیم 1.75 ارب روپے، آٹھویں ٹیم 1.85 ارب روپے جبکہ ملتان سلطانز 2.45 ارب روپے میں فروخت ہوئی ،اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ پی ایس ایل 2026 کے دوران فرنچائز فیس کی مد میں مجموعی طور پر 8 ارب 80 کروڑ 80 لاکھ روپے وصول کیے گئے۔ اس کے علاوہ بورڈ کا شیئر آف سنٹرل پول ریونیو 1 ارب 29 کروڑ 22 لاکھ 71 ہزار 849 روپے رہا جبکہ دیگر آمدن 9 کروڑ 50 لاکھ روپے ریکارڈ کی گئی۔
حکام کے مطابق پی ایس ایل کی آمدن میں میڈیا رائٹس، گیٹ منی اور اسپانسرشپ شامل ہیں، اور ان فنڈز کا باقاعدہ آڈٹ کیا جاتا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ تقریباً 95 فیصد آمدن ٹیموں کو جاتی ہے جبکہ 5 فیصد حصہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو ملتا ہے، اجلاس میں پی سی بی کے ڈھانچے سے متعلق بھی گفتگو ہوئی۔ بتایا گیا کہ بورڈ کے تین ارکان وزیراعظم نامزد کرتے ہیں جبکہ 11 ممبران چیئرمین کا انتخاب کرتے ہیں، اس موقع پر سینیٹر سعدیہ عباسی نے مطالبہ کیا کہ بورڈ میں ایک خاتون ممبر کی نمائندگی لازمی ہونی چاہیے۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ چاروں صوبوں کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی بھی بورڈ میں نمائندگی ہونی چاہیے، جس پر سمیر احمد نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کے لیے کابینہ کی منظوری ضروری ہے، اجلاس میں اسٹیڈیمز کی تعمیر اور اپ گریڈیشن پر بھی بریفنگ دی گئی, بتایا گیا کہ ایک کرکٹ اسٹیڈیم کی لاگت 12 سے 14 ارب روپے تک آتی ہے، کراچی اسٹیڈیم کی تزئین و آرائش پر 5 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے، جبکہ اسلام آباد کا اسٹیڈیم سی ڈی اے تعمیر کر رہا ہے، اجلاس کے اختتام پر کمیٹی نے مختلف امور پر مزید تفصیلی رپورٹس طلب کر لیں۔

