پٹرولیم ڈویژن کا بجٹ تقریباً نصف، افسران کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں 73.85 کروڑ روپے اضافہ

اسلام آباد( سپیشل رپورٹر ) وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے پٹرولیم ڈویژن کے بجٹ میں نمایاں کمی کرتے ہوئے مجموعی طور پر 1 ارب 11 کروڑ 16 لاکھ 66 ہزار روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً نصف بنتا ہے، جبکہ افسران کےخراجات اور تنخواہوں اور افسران کے الاؤنسز کے لیے مجموعی طور پر 73 کروڑ 85 لاکھ روپے اضافہ کر دیا ہے ۔

دستاویزات کے مطابق مالی سال 2025-26 کے بجٹ تخمینے میں پٹرولیم ڈویژن کے لیے 2 ارب 16 کروڑ 87 لاکھ 92 ہزار روپے مختص کیے گئے تھے، جبکہ نظرثانی شدہ تخمینہ 2 ارب 16 کروڑ 21 لاکھ 37 ہزار روپے رہا, اس کے برعکس آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ کم ہو کر 1 ارب 11 کروڑ 16 لاکھ 66 ہزار روپے رہ گیا ہے۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ فیول اینڈ انرجی کے شعبے کے لیے مختص رقم میں سب سے زیادہ کمی کی گئی ہے، جو گزشتہ سال تقریباً 1 ارب 95 کروڑ روپے سے کم ہو کر 86 کروڑ 85 لاکھ روپے رہ گئی ہے۔ دستاویز کے مطابق افسران سے متعلق اخراجات میں اضافہ کیا گیا ہے, تنخواہوں اور الاؤنسز کے لیے مجموعی طور پر 73 کروڑ 85 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں.

جبکہ آپریٹنگ اخراجات کے لیے 29 کروڑ 36 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔اسی طرح ریٹائرمنٹ فوائد کی مد میں 2 کروڑ 38 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ گرانٹس، سبسڈیز اور قرضوں کے رائٹ آف کے لیے 2 کروڑ 50 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں, گزشتہ برس اس مد میں ایک ارب روپے سے زائد رقم رکھی گئی تھی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت نے اس شعبے میں بھی نمایاں کٹوتی کی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق فزیکل اثاثوں کی خریداری کے لیے 2 کروڑ 10 لاکھ روپے اور مرمت و دیکھ بھال کے لیے تقریباً 96 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔