اسلام آباد (کورٹ رپورٹر) اسلام آباد ہائی کورٹ نے میاں بیوی سمیت تین مسافروں کو آف لوڈ کرکے عمرہ ادائیگی کے لیے روانگی سے روکنے کے خلاف دائر درخواست پر ڈی جی امیگریشن کو نوٹس جاری کر دیا، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے اسد اسلم کی درخواست کی سماعت کی، درخواست گزاروں کی جانب سے طارق محمد خان مروت ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اسد اسلم، عمران اور عشرت عمران 18 جون کو عمرہ ادائیگی کے لیے روانہ ہونے کی غرض سے ایئرپورٹ پہنچے، تاہم انہیں ہوٹل بکنگ نہ ہونے کا جواز پیش کرکے آف لوڈ کر دیا گیا، درخواست گزاروں کے وکیل طارق محمد خان مروت نے عدالت کو بتایا کہ پٹیشنرز کے پاس نجی ایئرلائن کے ریٹرن ٹکٹس اور کیو آر کوڈ کے ساتھ ہوٹل بکنگ موجود تھی، لیکن متعلقہ حکام نے ان دستاویزات کی تصدیق کرنے کے بجائے ان کے ساتھ بدتمیزی کی اور انہیں سفر کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
درخواست گزاروں نے الزام عائد کیا کہ ایئرپورٹ پر موجود عملے نے روانگی کی اجازت دینے کے لیے رشوت کا مطالبہ بھی کیا، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت درخواست گزاروں کو عمرہ ادائیگی کے لیے روانگی کی اجازت دینے کے احکامات جاری کرے، جبکہ عمرہ سفر کی منسوخی کے باعث ہونے والے 14 لاکھ روپے کے مالی نقصان کی تلافی کے لیے بھی متعلقہ حکام کو ہدایات دی جائیں۔
مزید برآں درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ انہیں مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر آف لوڈ کرنے والے عملے کے خلاف محکمانہ کارروائی کے احکامات بھی جاری کیے جائیں، عدالت نے درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد ڈی جی امیگریشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

