اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اسلام آباد زون نے رات گئے بڑی کارروائی کرتے ہوئے دارالحکومت میں انسانی اعضاء، بالخصوص ہیومن پلیسینٹا، کی غیر قانونی پراسیسنگ اور بیرون ملک اسمگلنگ میں ملوث مبینہ نیٹ ورک کا انکشاف کیا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق مصدقہ اطلاع پر سیکٹر ایف-7 اسلام آباد میں واقع ایک رہائشی مکان پر چھاپہ مارا گیا، جہاں انسانی اعضاء کی غیر قانونی پراسیسنگ کے لیے ایک مکمل پلانٹ قائم پایا گیا، ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ملزمان اس پلانٹ میں ہیومن پلیسینٹا کو غیر قانونی طور پر پراسیس اور خشک (ڈرائے) کرتے تھے۔
حکام کے مطابق تیار شدہ مصنوعات کو مبینہ طور پر “شی پلیسینٹا” کے نام سے ویتنام برآمد کیا جاتا تھا۔ کارروائی کے دوران مجموعی طور پر پانچ ملزمان کو گرفتار کیا گیا، جن میں تین چینی اور دو پاکستانی شہری شامل ہیں۔
ایف آئی اے نے گرفتار ملزمان سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر سیکٹر ایف-7/ای-11 اسلام آباد میں واقع ایک اور مقام پر بھی چھاپہ مارا، جہاں اسی نوعیت کا ایک فعال پروسیسنگ سینٹر قائم تھا۔ چھاپے کے دوران پراسیسنگ میں استعمال ہونے والا سامان، مشینری اور تیار شدہ مواد قبضے میں لے لیا گیا۔
ایف آئی اے کے مطابق ملزمان کے خلاف ہیومن آرگنز ٹرانسپلانٹیشن ایکٹ (HOTA) 2010 کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ نیٹ ورک کے دیگر ممکنہ سہولت کاروں اور سرگرمیوں سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں، حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران حاصل ہونے والے شواہد کی روشنی میں مزید گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جا سکتی ہیں۔

