پاکستان ریلویز کو 2024-25 میں 61 ارب روپے کا خسارہ، اے جی پی رپورٹ میں سنگین مالی بحران کا انکشاف

اسلام آباد (احسان بخاری ) پاکستان ریلویز کو مالی سال 2024-25 کے دوران 61 ارب روپے سے زائد کا خالص نقصان برداشت کرنا پڑا، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 9 ارب روپے یا 19.11 فیصد زیادہ ہے، یہ انکشاف آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آیا آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق سرکاری ملکیتی ادارہ (SOE) پاکستان ریلویز بدستور مالیاتی استحکام کے سنگین مسائل سے دوچار ہے، جس کی بنیادی وجہ آمدنی اور جاری اخراجات کے درمیان بڑھتا ہوا فرق ہے۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں پاکستان ریلویز کو 60 ارب روپے کا آپریٹنگ خسارہ ہوا جبکہ آپریٹنگ نقصان کی شرح 65 فیصد تک پہنچ گئی، گزشتہ پانچ مالی سالوں کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ مالی بحران مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے۔ مالی سال 2024-25 میں مجموعی آمدنی 92.7 ارب روپے رہی جبکہ کل آپریٹنگ اخراجات تقریباً 153 ارب روپے تک پہنچ گئے۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق 2020-21 سے 2024-25 کے دوران آپریٹنگ اخراجات میں 60فیصد اضافہ ہوا جبکہ آپریشنل نقصانات میں 29فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو انتظامیہ کی مالی توازن (Break-even) حاصل کرنے میں ناکامی کو ظاہر کرتا ہے، آڈٹ کا دائرہ کار پاکستان ریلویز کی 160 میں سے 84 تشکیلوں (Formations) تک محدود تھا، جن میں 105.6ارب روپے کے اخراجات اور 84.25 ارب روپے کی وصولیوں کا جائزہ لیا گیا۔آڈٹ کے دوران پاکستان ریلویز اور اس کی ذیلی کمپنیوں کے خلاف مجموعی طور پر 34.42 ارب روپے کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی۔

ان میں: 24.6 ارب روپے کی بجٹ سے متعلق بے ضابطگیاں، 11.2ارب روپے کمزور مالیاتی نظم و نسق سے متعلق، 7.2ارب روپے منصوبہ جاتی انتظامی خامیوں سے متعلق، 11.5 ارب روپے کی غیر بجٹ بے ضابطگیاں، زمین، اثاثوں اور ذخائر (Inventory) کے معاملات سے متعلق ہیں۔آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں کہا گیا کہ

ریونیو گرانٹ نمبر 85 کے تحت پاکستان ریلویز نے 157.839 ارب روپے کی حتمی مختص رقم کے مقابلے میں 154.212ارب روپے خرچ کیے، یوں 3.627 ارب روپے (2.30 فیصد) بچ گئے، اگرچہ یہ بچت مقررہ 5 فیصد حد کے اندر تھی، تاہم آڈٹ نے نشاندہی کی کہ انتظامیہ نے دستیاب فنڈز استعمال نہیں کیے، حالانکہ غیر ملکی قرضوں پر سود کی بڑی واجبات موجود تھیں۔

اسی طرح کیپیٹل گرانٹ نمبر 133 کے تحت 34.799 ارب روپے کے بجٹ میں سے صرف 30.585ارب روپے خرچ کیے گئے جبکہ 4.214ارب روپے (12.11 فیصد) استعمال نہ ہو سکے۔آڈیٹر جنرل نے اس غیر مؤثر مالی منصوبہ بندی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے اہم وسائل بروئے کار نہیں لائے گئے۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25میں پاکستان ریلویز کے کل اثاثوں کی مالیت 515.330ارب روپے تھی، تاہم ریونیو ریزروز مسلسل دوسرے سال بھی 26.05ارب روپے پر منجمد رہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادارہ کوئی برقرار رکھی گئی آمدنی پیدا نہیں کر سکا اور طویل المدتی منافع بخش ہونے کی صلاحیت شدید متاثر ہے۔