اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) وفاقی وزارتوں، ڈویژنوں اور خودمختار اداروں میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں، کمزور نگرانی، عدم وصولیوں، غیر مجاز اخراجات اور طرزِ حکمرانی کی سنگین خامیوں کا انکشاف اس رپورٹ کا انکشاف ۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آڈٹ سال 2025-26ء کی آڈٹ رپورٹ میں ہوا ، رپورٹ 399؍ صفحات پر مشتمل ہےجس کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن (31)، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (18)، وزارتِ قومی غذائی تحفظ (17)، وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی (16)، قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن (12)، پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (12)، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (12)، وزارتِ قومی صحت (11) اور تعلیم ڈویژن (10) کا نمبر آتا ہے۔
جن دیگر اداروں کو آڈٹ اعتراضات کا سامنا ہے ان میں کابینہ ڈویژن (2 پیراز)، مواصلات ڈویژن (5)، دفاعی ڈویژن (5)، اقتصادی امور ڈویژن (2)، اطلاعات ڈویژن (2)، بین الصوبائی رابطہ ڈویژن (8)، بحری امور ڈویژن (6)، نیب (2)، نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی (1)، وزارتِ منصوبہ بندی (1) اور وزارتِ مذہبی امور (3) شامل ہیں۔
آڈیٹر جنرل رپورٹ کے اہم ترین مشاہدات میں سے ایک کابینہ ڈویژن سے متعلق ہے، جہاں آڈیٹرز نے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے پروگرام (ایس اے پی)، جسے عموماً ارکانِ پارلیمنٹ کی ترقیاتی اسکیمیں کہا جاتا ہے، کے تحت وفاقی اور صوبائی ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص 75؍ ارب روپے کے استعمال پر سوال اٹھایا ہے۔
آڈیٹر جنرل کے آڈٹ کے مطابق، کابینہ ڈویژن منصوبوں پر عمل درآمد کرنے والے اداروں سے لازمی ماہانہ پیش رفت رپورٹس اور تکمیل کے سرٹیفکیٹس حاصل کرنے میں ناکام رہا، اسکیم کے لحاظ سے اور علاقے کے لحاظ سے اعداد و شمار کی عدم دستیابی کے باعث آڈیٹرز اس بات کی تصدیق نہ کر سکے کہ فنڈز کی تقسیم اور استعمال متوازن علاقائی ترقی کے مقصد کے مطابق تھا یا نہیں، متعدد آڈٹ اعتراضات کے باوجود کابینہ ڈویژن نے کوئی جواب نہیں دیا، آڈیٹرز نے سفارش کی ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کو دی جانے والی ترقیاتی اسکیموں کے فنڈز کی تقسیم اور استعمال کی نگرانی کیلئے ایک مرکزی ڈیجیٹل مانیٹرنگ نظام قائم کیا جائے۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگرچہ توشہ خانہ ایکٹ 2024ء میں نافذ کیا جا چکا ہے، تاہم اس پر عمل درآمد کے قواعد و ضوابط تاحال مرتب نہیں کیے گئے۔ رپورٹ میں اقتصادی امور ڈویژن کیخلاف سب سے بڑے مالی اعتراضات میں سے ایک سامنے آیا، آڈٹ کے مطابق، 30؍ جون 2025ء تک بیرونی ری لینٹ قرضوں کے اصل زر، سود اور ایکسچینج رِسک واجبات کی مد میں 1.927؍ کھرب روپے مختلف ریاستی اداروں سے وصول نہ کیے جا سکے۔
انتظامیہ نے آڈٹ اعتراضات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ تعلیم کے شعبے میں آڈیٹرز نے نشاندہی کی کہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے قائداعظم یونیورسٹی کو الاٹ کی گئی 1709؍ ایکڑ اراضی میں سے 298؍ ایکڑ پر گزشتہ تقریباً 50؍ برس سے نجی قابضین کا غیر قانونی قبضہ برقرار ہے، رپورٹ میں یونیورسٹی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس اراضی کو واگزار کرانے کیلئے موثر اقدامات کرے۔
یونیورسٹی نے منہا کردہ انکم ٹیکس کی مد میں 177؍ ملین روپے بھی سرکاری خزانے میں جمع نہیں کرائے۔ قائداعظم یونیورسٹی نے شدید مالی بحران کا حوالہ دیتے ہوئے آڈیٹرز کو بتایا کہ بعد ازاں 83؍ ملین روپے ایف بی آر میں جمع کرا دیے گئے ہیں، آڈٹ میں مزید نشاندہی کی گئی کہ 356؍ ملین روپے کے اسکالرشپ فنڈز خرچ کرنے کے بجائے اس رقم سے سرمایہ کاری کی گئی، تاہم یونیورسٹی کا موقف تھا کہ یہ فنڈز عطیہ دہندگان کی شرائط کے مطابق استعمال کیے جا رہے ہیں۔
ایک اور اعتراض مختلف قائداعظم یونیورسٹی مراکز کی جانب سے بغیر منظور شدہ پالیسی کے 281؍ ملین روپے کی سرمایہ کاری سے متعلق ہے، جس پر کوئی جواب فراہم نہیں کیا گیا، اس کے علاوہ، لاہور کے سینٹر آف ایکسی لینس اِن مالیکیولر بائیولوجی نے مالی سال کے اختتام پر غیر استعمال شدہ فنڈز حکومت کو واپس کرنے کے بجائے 500؍ ملین روپے کی سرمایہ کاری کر دی، جس کی کوئی وضاحت آڈیٹرز کو نہیں دی گئی۔
اطلاعات ڈویژن کیخلاف پیمرا کی جانب سے واجب الادا فیسوں اور جرمانوں کی مد میں 87؍ ملین روپے وصول نہ کرنے کا اعتراض سامنے آیا، انسدادِ منشیات فورس (اے این ایف) میں آڈیٹرز نے کھلی مسابقت کے بغیر دو ہیلی کاپٹروں کی 1.2؍ ارب روپے مالیت کی اوورہالنگ پر اعتراض کرتے ہوئے تحقیقات کی سفارش کی ہے۔
وزارتِ بحری امور کے تحت کراچی ڈاک لیبر بورڈ (کے ڈی ایل بی) کیخلاف بھی کئی اہم اعتراضات سامنے آئے، جن میں 433؍ ملین روپے سیس کی عدم وصولی، آمدن سے زائد اخراجات کے باعث 1.9؍ ارب روپے کے مسلسل نقصانات، 343؍ ملین روپے کے بے ضابطہ بونس، اور اسپتالوں و لیبارٹریوں کے غیر شفاف انتخاب کے ساتھ 620؍ ملین روپے کی ادائیگیاں شامل ہیں۔
آڈٹ رپورٹ میں نیب کیخلاف 324؍ ملین روپے کے اعتراضات درج کیے گئے ہیں، جن میں 277؍ ملین روپے ریکوری اینڈ ریوارڈ فنڈ کے بجائے معمول کے بجٹ سے لاء آفیسرز اور ماہرین پر خرچ کرنا، اور 46؍ ملین روپے کی وصولیاں سرکاری خزانے میں جمع نہ کرانا شامل ہے۔ تاہم نیب نے کسی بھی بے ضابطگی کو تسلیم نہیں کیا۔
وزارتِ قومی غذائی تحفظ کیخلاف اہم اعتراضات میں کپاس کی معیاری جانچ کی فیس کی مد میں 1.9؍ ارب روپے کی عدم وصولی، ہوائی جہاز کے اسپیئر پارٹس پر 193؍ ملین روپے کے غیر ضروری اخراجات، کنٹریکٹ ملازمین کی غیر شفاف بھرتیوں پر 355؍ ملین روپے خرچ کرنا، 4.4؍ ارب روپے کی وصولیوں میں عدم مطابقت، اور پلانٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ کے اس طیارے کے حادثے کی تحقیقات پانچ برس گزرنے کے باوجود مکمل نہ ہونا شامل ہیں، جو 2020ء میں تباہ ہوا تھا۔
آڈیٹر جنرل کے آڈیٹرز نے یہ بھی نشاندہی کی کہ رجسٹریشن سے خارج کیے گئے 15؍ طیارے برسوں سے ناکارہ پڑے رہے اور ان کی نیلامی نہ ہونے سے 42؍ ملین روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔ وزارتِ قومی صحت کو جن اعتراضات کا سامنا ہے ان میں وفاقی کابینہ کے فیصلے پر عمل نہ کرنے کے باعث 1.1؍ ارب روپے کی ویکسین مہنگے داموں خریدنا، فیڈرل گورنمنٹ پولی کلینک اسپتال کی جانب سے 508؍ ملین روپے کی ادویات کی بے ضابطہ خریداری، اور شیخ زید میڈیکل کمپلیکس لاہور میں کنسلٹنٹس کے حصے کی مد میں 28؍ ملین روپے کی جعلی ادائیگی شامل ہے۔
قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کیخلاف بھی متعدد اہم اعتراضات سامنے آئے، جن میں قائداعظم مزار مینجمنٹ بورڈ کی جانب سے 681؍ ملین روپے کی ٹریژری بلز میں بے ضابطہ سرمایہ کاری، نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس کی جانب سے وزارتِ خزانہ کی منظوری کے بغیر 865؍ ملین روپے کی سرمایہ کاری، پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کی عمارت کی تعمیر کے سلسلے میں سی ڈی اے سے 27؍ ملین روپے کی عدم وصولی، اور اقبال اکیڈمی پاکستان سے 145؍ ملین روپے کے یوٹیلٹی چارجز وصول نہ کرنا شامل ہیں۔
پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) کے حوالے سے آڈیٹرز نے چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کی جانب سے واٹر ڈسپوزل فنڈ کے 2.8؍ ارب روپے استعمال نہ کرنے، 61؍ ملین روپے کی اسپاٹ خریداری، اور فراہم نہ کی گئیں اشیاء کیلئے پیشگی ادا کردہ 936؍ ملین روپے کی نان ایڈجسٹمنٹ کی نشاندہی کی، وزارتِ منصوبہ بندی و ترقی کیخلاف واحد آڈٹ پیرا پاکستان محکمہ شماریات کی جانب سے ضلعی انتظامیہ سے 3.1؍ ارب روپے کے آڈٹ شدہ گوشوارے اور ایڈجسٹمنٹ اکاؤنٹس حاصل نہ کرنے سے متعلق ہے۔
وزارتِ مذہبی امور کے بارے میں آڈٹ میں کہا گیا ہے کہ 45؍ ارب روپے سے متعلق آڈٹ شدہ گوشوارے اور ایڈجسٹمنٹ اکاؤنٹس حاصل نہیں کیے گئے، جس سے اخراجات کی جانچ اور احتساب کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہوئے ہیں، رپورٹ کے سب سے بڑے اعتراضات میں سے ایک وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی سے متعلق ہے۔
آڈیٹر جنرل آڈٹ کے مطابق پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے) کی جانب سے تاخیر سے ادائیگی پر سرچارج عائد نہ کرنے سے 59؍ ارب روپے کا نقصان ہوا، 1.7؍ ارب روپے کی زائد رقوم وفاقی کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں جمع نہیں کرائی گئیں، نیشنل بینک آف پاکستان میں میعاد پوری ہونے کے باوجود 7.3؍ ارب روپے کی سرمایہ کاری واپس نہیں لی گئی، جبکہ وفاقی کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے باہر تقریباً 3؍ ارب روپے کے بیلنس کے ساتھ 45؍ غیر مجاز بینک اکاؤنٹس برقرار رکھے گئے۔
ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) کو 18؍ آڈٹ اعتراضات کا سامنا ہے، اہم اعتراضات میں کراچی ایکسپو سینٹر کی آمدن کے 513؍ ملین روپے کمرشل بینکوں میں غیر قانونی طور پر برقرار رکھنا، ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کی مد میں 1.56؍ ارب روپے کی واجبات، بین الاقوامی نمائشوں پر 1.2؍ ارب روپے کے زائد اخراجات، انٹرٹیکس پرتگال 2025ء میں شرکت نہ ہونے کے باوجود 31320؍ یورو کے غیر ضروری اخراجات، اور پی آئی اے و سندھ پولیس کے مبینہ قبضے میں موجود ایکسپو سینٹر کی قیمتی اراضی کا قبضہ واپس نہ لینا شامل ہیں۔
آڈیٹر جنرل کے آڈٹ رپورٹ مجموعی طور پر متعدد وفاقی اداروں میں کمزور مالیاتی کنٹرول، ناقص ریکارڈ کیپنگ، عدم وصولیوں، غیر مجاز سرمایہ کاری، خریداری میں بے ضابطگیوں اور نگرانی کے نظام کی ناکامی کی تشویشناک تصویر پیش کرتی ہے، متعدد اداروں نے یا تو آڈٹ اعتراضات کا کوئی جواب نہیں دیا، یا ان اقدامات کا دفاع کیا جنہیں آڈیٹرز نے بے ضابطہ قرار دیا، جس کے باعث احتساب سے متعلق کئی بنیادی سوالات بدستور جواب طلب ہیں۔

