اسلام آباد (احسان بخاری/سپیشل رپورٹر) 41کروڑ روپے مالیت کے سگریٹ کیس میں کسٹم کی ایف آئی آر منظر عام پر آگئی کسٹم نے گیارہ ٹرکوں کے ڈرائیورز کو گرفتار کرکے جیل روزنہ کرکے سگریٹ مافیا کے مبینہ ٹیکس چور مالکان کو تفتیش سے غائب کردیا .
ذرائع کے مطابق اکتالیس کروڑ روپے مالیت کے سگریٹ کے گیارہ ٹرکوں کو موٹر وے پولیس نے پکڑ کر کسٹم کے حوالے کردیا جس پر کسٹم نے ابتدائی طور پر 11ڈرائیوروں جن میں طفیل احمد‘ عامر‘ عزیز‘ عادل‘ عابد‘ احکام الدین‘ بلال خان‘ اسفند یار‘ ماجد خان‘ شاہد خان‘ محمد عمر کو گرفتار کلریا ان کے ٹرکوں سے مختلف برانڈ کے سگریٹ جن میں دبئی لائٹ‘ بیئر‘ ایگل‘ سموک سٹار‘ مورون‘ کیفے‘ چیزز‘ دبئی جو کہ مختلف کاٹن میں موجود تھے جن کی تعداد 2425 کاٹن تھے اس کی مجموعی مالیت 41کروڑ روپے بنتی ہے .
کسٹم کے تھانہ آئی اینڈ پی کلکٹریٹ آف کسٹم انفوسمنٹ نے سمگل شدہ گیارہ ٹرکوں اور ڈرائیوروں کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا۔ ذراء عکے مطابق معاملہ اس قدر سنگین نوعیت کا تھا تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ بالا سگریٹ کمپنیوں کے مالکان کا رابطہ کسٹم کے اعلیٰ افسران سے ہوگیا اور معاملے کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے تفتیشی آفیسر نے مبینہ طور پر ڈرائیورز سے اصل نیٹ ورک تک پہنچنے کی بجائے معاملہ گول کردیا اور مقدمہ ڈرائیوروں سے شروع ہو کر ڈرائیوروں تک ہی رکھا اور اصل سگریٹ مافیا کو معاملے سے دور رکھا۔
دوسری جانب اے بی این نیوز میں خبر نشر ہونے پر سینٹ کی کمیٹی برائے داخلہ کی سب کمیٹی کے کنوینئر سیف اﷲ ابڑو نے کمیٹی میں اٹھایا اور کہا کہ ہمیں بدنام کیا جارہا ہے اور کہا کہ اے بی این نیوز کے مالک‘ بیورو چیف اور رپورٹر پر پیکا ایکٹ لگایا جائے اور مقدمہ درج کیا جائے ، کنوینئر کمیٹی کی ہدایت پر پی آئی ڈی نے اے بی این نیوز کے موبائل فرانزک کے لئے طلب کیا مگر بعد ازاں رات گئے نوٹس کینسل کردیا تھا۔ روزنامہ اوصاف ‘ اے بی این نے اکتالیس کروڑ روپے کے سگریٹ مافیا کے مالکان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی بجائے ڈرائیوروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے ‘ ناقص تفتیش کرنے پر چیف کلکٹر باسط محمود عباسی ‘ کلکٹر رضوان صلابت سے ان کے فون پر اور واٹس ایپ پر تحریری میسج بھیجا لیکن انہوں نے جواب دینے کی بجائے خاموشی اختیار رکھی۔

