اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے اسلام آباد کے گلبرگ گرینز میں واقع سپارکو ٹاور میں کارروائی کرتے ہوئے 115 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کرلیا ، ایف آئی آر کے متن کے مطابق گرفتار کیے گئے غیر ملکی بظاہر سافٹ ویئر اور ہارڈویئر کی خرید و فروخت، درآمد و برآمد اور معاون انفراسٹرکچر سے متعلق کاروباری سرگرمیوں کی آڑ میں مبینہ غیر قانونی سائبر سرگرمیوں میں ملوث تھے۔
ایف آئی آر کے مطابق انکوائری نمبر RE-2328/26 درج کیے جانے کے بعد چھاپہ مار ٹیم تشکیل دی گئی اور مشتبہ مقام سپارکو ٹاور، ڈی اینڈ ای بزنس ایونیو، پلاٹ نمبر 23، مین گلبرگ گرینز، بلاک ڈی، اسلام آباد پر کارروائی کی گئی۔
ایف آئی آر میں درج کیا گیا ہے کہ دستیاب مواد اور حالات سے بادی النظر میں یہ بات سامنے آئی کہ ایم/ایس ایبرگ ٹیکنالوجیز پرائیویٹ لمیٹڈ مبینہ طور پر انٹرنیٹ کے ذریعے فحش مواد کی تیاری، ترسیل اور فروخت میں ملوث تھی۔ ایف آئی آر کے مطابق کمپنی پر دنیا بھر کے افراد کو آن لائن جنسی گفتگو اور دیگر قابل اعتراض ویڈیو مواد کے ذریعے متوجہ کرنے اور اس سرگرمی سے مالی فائدہ حاصل کرنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔
کارروائی کے دوران متعلقہ جرائم سے متعلق شواہد اکٹھے کیے گئے جنہیں 11 اگست 2026 کی تاریخ کے ضبطی میموز کے ذریعے این سی سی آئی اے کے قبضے میں لے لیا گیا۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق موقع پر ہونے والی پوچھ گچھ کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ ایبرگ ٹیکنالوجیز پرائیویٹ لمیٹڈ نے مبینہ طور پر سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کے ساتھ درج کاروباری نوعیت سے ہٹ کر مختلف قومیتوں کے مردوں اور خواتین کو انٹرنیٹ کے ذریعے قابل اعتراض مواد کی تیاری اور ترسیل سے متعلق سرگرمیوں کے لیے ملازمت پر رکھا ہوا تھا۔
ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ویتنامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ عہدیداروں کی یونیفارمز اور وارڈروب بھی برآمد ہوئے، جنہیں مزید تفتیش کے لیے این سی سی آئی اے نے قبضے میں لے لیا۔
ایف آئی آر میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ کمپنی مبینہ طور پر سائبر رومانس مالی فراڈ (Cyber Romance Financial Fraud) کے لیے بھی الیکٹرانک ذرائع استعمال کر رہی تھی ، تفتیشی حکام کے مطابق بظاہر ایک آئی ٹی کاروباری ادارے کے طور پر رجسٹرڈ کمپنی پر الزام ہے کہ وہ الیکٹرانک ذرائع کے ذریعے افراد کو جنسی گفتگو اور ویڈیو سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے، قابل اعتراض مواد تیار کرنے اور جعل سازی و دھوکہ دہی کے ذریعے مالی فوائد حاصل کرنے میں ملوث تھی۔
ایف آئی آر کے مطابق کارروائی کے دوران ملزمان کو مذکورہ جرائم سے جوڑنے والے شواہد بھی ریکارڈ پر آئے ہیں۔ حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ گرفتار افراد کے کردار اور مبینہ سائبر نیٹ ورک کے دائرہ کار کا تعین کیا جا سکے۔
پولیس/تحقیقاتی حکام نے ملزمان کے خلاف الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون 2016 کی دفعات 14 اور 21 جبکہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 419، 420، 34 اور 109 کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے ، حکام کے مطابق کیس کی تحقیقات کے دوران برآمد ہونے والے ڈیجیٹل اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ گرفتار غیر ملکی شہریوں سے متعلق قانونی کارروائی بھی جاری ہے۔

