کراچی (بیورو رپورٹ) چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ ظفر احمد راجپوت نے کہا ہے کہ دنیا کے کسی معاشرے نے خواتین کو محکوم رکھ کر ترقی نہیں کی ، شہر قائد میں ویمن لا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس ظفر احمد راجپوت کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے شمار وسائل سے نوازا ہے، ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کو اسلام میں خاص مقام حاصل ہے، بیٹیوں اور بیٹوں میں کسی قسم کا فرق نہیں رکھنا چاہیے، اللہ تعالیٰ نے انہیں تین بیٹیوں سے نوازا اور تینوں بیٹیوں نے بھی اسی تعلیمی ادارے سے تعلیم حاصل کی جہاں ان کے بیٹے نے تعلیم حاصل کی ، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ بیٹیوں کو بھی بیٹوں کے برابر مواقع اور حقوق فراہم کیے جانے چاہئیں، خواتین کی تعلیم اور بااختیار بنانے کے بغیر معاشرہ حقیقی معنوں میں ترقی نہیں کرسکتا۔
جسٹس طفر احمد راجپوت نے کہا کہ پاکستان قدرتی اور انسانی وسائل سے مالا مال ملک ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ دستیاب وسائل کو بہتر انداز میں بروئے کار لایا جائے اور ہر شہری کو آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔
چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ دنیا کے کسی بھی معاشرے نے خواتین کو محکوم رکھ کر ترقی نہیں کی، آئین اور قانون کے مطابق خواتین کے حقوق انسانی حقوق کا حصہ ہیں اور انسانی حقوق کو ہر معاشرے میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئین اس بات کا پابند بناتا ہے کہ جنس کی بنیاد پر کسی شہری کے ساتھ امتیاز نہ کیا جائے جب کہ ملک کے ہر شہری کے حقوق برابر ہیں، خواتین کو مساوی حقوق، تعلیم اور ترقی کے مواقع فراہم کرنا ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کا مزید کہنا تھا کہ ایک مضبوط اور ترقی یافتہ معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ خواتین کو قومی زندگی کے تمام شعبوں میں بھرپور کردار ادا کرنے کے مواقع دیے جائیں۔

