اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد پولیس کے جدید کمانڈ، کنٹرول، کمیونیکیشن اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر کا افتتاح کردیا، جس کا مقصد وفاقی دارالحکومت میں پولیس کے آپریشنز، سیف سٹی نظام اور امن و امان کی صورتحال کی نگرانی اور کمانڈ کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
افتتاح کے بعد وفاقی وزیر داخلہ نے جدید سینٹر کے مختلف حصوں کا دورہ کیا اور وہاں نصب مانیٹرنگ، کمیونیکیشن اور کمانڈ سسٹمز کا جائزہ لیا، متعلقہ حکام نے محسن نقوی کو سینٹر کی کارکردگی، سیف سٹی کے ساتھ مربوط نظام، پولیس آپریشنز، فیلڈ فورس کی نگرانی اور ہنگامی صورتحال میں رسپانس کے طریقہ کار پر تفصیلی بریفنگ دی۔
نئے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے ذریعے آئی جی اسلام آباد اپنے دفتر سے سیف سٹی، پولیس آپریشنز اور شہر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کو براہِ راست مانیٹر کرسکیں گے ، کسی بھی ہنگامی یا سکیورٹی صورتحال میں صورتحال کا فوری جائزہ لے کر متعلقہ افسران کو بروقت احکامات جاری کرنے کی سہولت بھی حاصل ہوگی۔
محسن نقوی نے کہا کہ جدید سینٹر کا بنیادی مقصد اسلام آباد پولیس کے مختلف شعبوں کو ایک مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کے تحت لانا ہے، جس سے پولیس کی نگرانی، رابطہ کاری اور فوری فیصلہ سازی میں بہتری آئے گی۔
وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق سیف سٹی سمیت پولیس کے اہم آپریشنل نظام کو ایک مرکزی پلیٹ فارم سے منسلک کیا جائے گا۔ اس مربوط نظام کے نتیجے میں مختلف پولیس یونٹس کے درمیان رابطہ اور کوآرڈینیشن بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ کسی بھی واقعے کی صورت میں معلومات کی بروقت ترسیل اور پولیس کے فوری ردعمل کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ جدید مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کے استعمال سے پولیس کی کارکردگی، رسپانس ٹائم اور فیلڈ فورس کی مانیٹرنگ مزید مؤثر ہوگی۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی کے ذریعے پولیس کی کمانڈ، نگرانی اور احتساب کے نظام کو بھی مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
محسن نقوی نے مزید کہا کہ نئے سینٹر سے فیلڈ میں تعینات پولیس اہلکاروں اور مختلف یونٹس کی کارکردگی کی مؤثر نگرانی ممکن ہوگی، جبکہ ہنگامی حالات میں فوری فیصلہ سازی کے عمل کو بھی تیز کیا جاسکے گا۔
وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ شہریوں کا تحفظ، پولیس کی کارکردگی میں بہتری اور اسلام آباد میں امن و امان کا مؤثر قیام حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ، تقریب کے موقع پر آئی جی اسلام آباد، ڈی جی آئی جی اسلام آباد اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔

