برکس کا غزہ میں جنگ بندی برقرار رکھنے پر زور، فلسطینیوں کی جبری بے دخلی مسترد

ماسکو (ویب ڈیسک) برکس ممالک نے غزہ میں جنگ بندی برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی مسترد اور فلسطین کے دو ریاستی حل کی حمایت کردی ، اعلامیے کے مطابق برکس سربراہی اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں غزہ میں کسی بھی جغرافیائی یا آبادیاتی تبدیلی کی مخالفت کی گئی ہے، برکس ممالک نے مقبوضہ بیت المقدس کی تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کے یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کرتے ہوئے شہر میں تمام مذہبی اور مقدس مقامات کے احترام پر زور دیا۔

برکس ممالک نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کیلئے متعلقہ اقوام متحدہ کی قرارداد پر عملدرآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا ، رہنماؤں نے دنیا بھر میں تنازعات کی روک تھام اور ان کی بنیادی وجوہات کے حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی تنازعات مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں۔

اعلامیے میں جوہری جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جنگ کے دوران جوہری تنصیبات کی حفاظت اور سکیورٹی یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا ، برکس ممالک نے یکطرفہ تجارتی پابندیوں اور محصولات میں اضافے پر بھی تنقید کی اور تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا۔

چینی صدر شی جن پنگ نے برکس سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ سے خطے کے عوام کو بھاری نقصان پہنچا ہے، یہ جنگ عالمی برادری کے مفاد میں نہیں ، مشرق وسطیٰ اور خلیج میں کشیدگی بڑھانے سے گریز کیا جائے۔

شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ چین برکس ممالک کے ساتھ مل کر مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کیلئے کردار ادا کرنے کو تیار ہے، برکس ممالک کو دیگر ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے اور امن و استحکام کے قیام میں قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ برکس ممالک کو تاریخ کے فیصلوں پر مضبوطی سے کھڑا ہونا چاہیے، مشرق وسطیٰ کی جنگ نے خطے کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اس کا جاری رہنا عالمی برادری کے مفاد میں نہیں۔