power devision capittalnewspoint.com

اگست میں فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ 1.73 روپے فی یونٹ ہوگئی، 10.6 ارب روپے کا اضافی بوجھ ٹل گیا

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) پاور ڈویژن کی طرف سے بروقت اقدامات اور فیصلوں کی بدولت اگست 2026 کے مہینے میں فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 2.0851 فی یونٹ سے کم ہو کر تقریباً 1.73 روپے فی یونٹ رہی ، وفاقی وزیر نے کہا کہ برووقت فیصلوں کی بدولت نہ صرف فی یونٹ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ میں کمی لائی گئی بلکہ ممکنہ 10.6 ارب روپے کے اضافے اور قیمتی زرمبادلہ کو بھی بچایا گیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس کمی کا سہرا عوام کے سر ہے جنہوں نے حکومت کے ساتھ تعاون کیا اور رات کے اوقات میں چند گھنٹے کی لوڈ مینجمنٹ برداشت کی ، اویس لغاری نے کہا کہ “میں عوام کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے قیمتیں کم کرنے میں حکومت کا ساتھ دیا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پوری دنیا میں ایندھن کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کی وجہ سے بین الاقوامی ایندھن کی منڈیوں میں شدید دباؤ پایا جاتا ہے۔ “

وفاقی وزیر نے کہا یہ حکومت کی عوام دوست پالیسیوں کا نتیجہ ہے جو بروقت اٹھائے گئے اقدامات کی بدولت عوام کو براہ راست فائدہ پہنچا رہی ہیں ، اگر یہ اقدامات نہ کیے جاتے تو گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 10.6 ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہوتا، جس سے عوام پر مزید بوجھ پڑتا۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اس کامیابی کی اہم وجہ مقامی وسائل کا زیادہ سے زیادہ استعمال ہے۔ اگست 2026 میں کل بجلی کی پیداوار کا 72 فیصد مقامی وسائل سے حاصل کیا گیا، جس میں ہائیڈل (38%), مقامی کوئلہ (11%), نیوکلیئر (10%), مقامی گیس (7%), ہوا (6%) اور شمسی توانائی (1%) شامل ہیں، جبکہ صرف 28 فیصد بجلی درآمدی کوئلے اور آر ایل این جی سے پیدا کی گئی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ آر ایل این جی کی سپلائی میں خلل کی وجہ سے اسپاٹ کارگو کی قیمتیں 23 سے 25 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ گئیں، جو غیر معمولی طور پر بلند تھیں ، اس صورتحال میں وزیرِ اعظم کی ہدایت پر پاور ڈویژن نے پیٹرولیم ڈویژن اور این سی ایم سی کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے پاور سیکٹر کے لیے اضافی مقامی گیس کا انتظام کیا، جس سے مہنگی آر ایل این جی کی خریداری سے گریز ممکن ہوا۔

اگر مقامی گیس دستیاب نہ ہوتی تو پاور سیکٹر کو ایک اضافی گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑتا، اور فرنس آئل یا درآمدی آر ایل این جی سے بجلی پیدا کرنے کی صورت میں صارفین کے ٹیرف میں تقریباً 10.6 ارب روپے کا اضافہ ہوتا، جسے بروقت اقدامات سے روکا گیا ، ان مربوط اقدامات اور مؤثر ایندھن پورٹ فولیو مینجمنٹ کے نتیجے میں اگست 2026 کی ایف سی اے کم رہی۔ حکومت اپنی عوام دوست پالیسیوں کے تحت عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔