اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) اور قومی احتساب بیورو (نیب) نے منصفانہ مسابقت، شفافیت، سرکاری خریداری میں دیانت داری اور بہتر طرزِ حکمرانی کے فروغ کیلئے ادارہ جاتی تعاون، استعدادِ کار اور پیشہ ورانہ مہارتوں کے تبادلے کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔
اس سلسلے میں دونوں اداروں نے پہلے سے موجود مفاہمتی یادداشت کے ایک اضافی معاہدے پر دستخط کیے۔ تقریب نیب ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں چیئرمین سی سی پی فرید احمد تارڑ اور چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد کی موجودگی میں ہوئی، جس میں دونوں اداروں کے سینئر افسران نے بھی شرکت کی۔
مئی 2025ء میں طے پانے والی اصل مفاہمتی یادداشت کے تحت بولیوں میں گٹھ جوڑ، ملی بھگت سے ٹینڈرنگ، معلومات کے تبادلے اور تکنیکی تعاون کیلئے ایک باقاعدہ لائحۂ عمل وضع کیا گیا تھا ، نئے اضافی معاہدے کے تحت تربیت، پیشہ ورانہ ترقی اور استعدادِ کار کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دی گئی ہے۔
دونوں ادارے پاکستان انسدادِ بدعنوانی اکیڈمی کے پلیٹ فارم سے مسابقتی قانون، انسدادِ بدعنوانی، سرکاری خریداری میں دیانت داری اور معاشی نظم و نسق سے متعلق مشترکہ تربیتی پروگرام، ورکشاپس، سیمینارز، کانفرنسز اور آگاہی نشستیں منعقد کریں گے۔ ماہرین، تفتیشی افسران، ماہرینِ معاشیات، استغاثہ کے افسران اور محققین کے تجربات اور مہارت سے بھی باہمی استفادہ کیا جائے گا۔

چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے اداروں کی استعدادِ کار بڑھانے کیلئے باہمی تعاون، علم اور پیشہ ورانہ تجربات کے تبادلے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان انسدادِ بدعنوانی اکیڈمی کے ذریعے منظم تعاون خصوصی مہارتوں کے فروغ اور شفافیت، دیانت داری اور بہتر طرزِ حکمرانی سے متعلق آگاہی بڑھانے میں معاون ہوگا۔
چیئرمین سی سی پی فرید احمد تارڑ نے کہا کہ مؤثر نفاذ کیلئے ادارہ جاتی تعاون ناگزیر ہے۔ خصوصاً سرکاری خریداری میں ملی بھگت مسابقت کو متاثر کرنے، اخراجات بڑھانے اور سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصفانہ کاروباری ماحول کے فروغ اور تحفظ کیلئے مؤثر ادارہ جاتی رابطہ، معلومات کا تبادلہ اور ایک دوسرے کی مہارت سے استفادہ ضروری ہے۔
دونوں اداروں نے کارٹل سازی اور دیگر مسابقت مخالف سرگرمیوں کی روک تھام کیلئے معلومات اور مہارت کے تبادلے کو مزید مضبوط بنانے اور اپنے اپنے قانونی دائرۂ کار میں رہتے ہوئے معاشی استعداد، منصفانہ کاروباری طریقوں اور صارفین کے تحفظ کے فروغ کیلئے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

