عمرہ ویزے کی آڑ میں خواتین کے مبینہ جنسی استحصال کا نیٹ ورک بے نقاب، ملتان ایئرپورٹ سے ایجنٹ گرفتار

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) امیگریشن نے ملتان ایئرپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے عمرہ ویزے کی آڑ میں خواتین کو مبینہ طور پر جنسی استحصال کا نشانہ بنانے اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایک منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایف آئی اے کے مطابق کارروائی کے دوران ایک خاتون مسافر کی نشاندہی پر محمد امجد نامی مبینہ ایجنٹ کو گرفتار کر لیا گیا۔ خاتون مسافر انیشہ بی بی فلائٹ نمبر SV801 کے ذریعے عمرہ ویزے پر سعودی عرب روانہ ہو رہی تھی۔

امیگریشن کلیئرنس کے دوران خاتون مسافر کے بارے میں شبہ پیدا ہونے پر اسے مزید جانچ پڑتال کے لیے شفٹ انچارج کے حوالے کیا گیا۔ ابتدائی تفتیش اور دستیاب معلومات کی جانچ کے دوران مبینہ جنسی استحصال سے متعلق اہم شواہد سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ایف آئی اے کے مطابق خاتون کے زیر استعمال موبائل فونز، چیٹس اور دیگر ڈیجیٹل مواد کی جانچ کے دوران کمرشل جنسی استحصال سے متعلق مبینہ شواہد ملے، جبکہ تفتیش کے دوران ایک منظم نیٹ ورک سے متعلق اہم معلومات بھی حاصل کی گئیں۔

سعودی عرب میں موجود ایجنٹ پر بھی تحقیقات :

ابتدائی تحقیقات کے مطابق خواتین کے مبینہ جنسی استحصال میں ملوث نیٹ ورک کا مرکزی کردار سعودی عرب میں مقیم تھا اور وہیں سے مبینہ طور پر نیٹ ورک کو چلا رہا تھا ، ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں موجود مذکورہ ایجنٹ نے عمرہ ویزے کی آڑ میں خاتون مسافر کے سعودی عرب جانے کے انتظامات کیے۔

تحقیقاتی حکام کے مطابق ابتدائی شواہد سے یہ شبہ ظاہر ہوا کہ خاتون کو سعودی عرب پہنچنے کے بعد مبینہ طور پر جنسی استحصال کا نشانہ بنانے کا منصوبہ تھا ، ایف آئی اے نے خاتون کے زیر استعمال موبائل فونز اور دیگر متعلقہ مواد کو مزید تفتیش کے لیے تحویل میں لے لیا ہے۔

مزید ملزمان کی تلاش کے لیے تحقیقات کا دائرہ وسیع :

خاتون مسافر اور گرفتار ایجنٹ کو مزید قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل ملتان کے حوالے کر دیا گیا ہے، جہاں معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں ، حکام کے مطابق مبینہ نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی شناخت اور کردار کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے ، ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ انسانی اسمگلنگ اور خواتین کے جنسی استحصال میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔