اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) وفاقی وزیر توانائی اور پاکستان روس بین الحکومتی کمیشن کے شریک چیئرمین اویس لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان تعاون علاقائی امن، سلامتی اور معاشی ترقی کے لیے اہمیت رکھتا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے مزید فروغ کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
روسی خبر رساں ادارے سپوتنک کو انٹرویو دیتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی سطح پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کے دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھایا، جبکہ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور روس کے باہمی تعلقات کو مزید آگے بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے پاکستان روس بین الحکومتی کمیشن کو دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے مؤثر پلیٹ فارم قرار دیا ، ان کے مطابق وہ روسی وزیر توانائی سرگئی تسویلیف کے ساتھ کمیشن کی مشترکہ سربراہی کر رہے ہیں ، اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان زراعت، غذائی تحفظ، توانائی، سیاحت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کے امکانات موجود ہیں۔
وفاقی وزیر کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان نئے ریل رابطوں کا قیام اور پاکستان کی بین الاقوامی شمال جنوب ٹرانسپورٹ راہداری میں شمولیت باہمی تجارت اور علاقائی روابط کے فروغ میں معاون ثابت ہوسکتی ہے ، انہوں نے کہا کہ بہتر مواصلاتی اور تجارتی روابط سے پاکستان اور روس کے درمیان اقتصادی سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے کے مواقع پیدا ہوں گے۔
سندھ طاس معاہدے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق سے محرومی کی کسی بھی کوشش کو انتہائی سنگین معاملہ تصور کرتا ہے ، وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو اس کے آبی حقوق سے محروم کرنے کی کوشش ’’اعلانِ جنگ‘‘ کے مترادف ہوگی ، انہوں نے تنازعات کے حل کے لیے سندھ طاس معاہدے میں موجود طے شدہ طریقہ کار اختیار کرنے پر زور دیا۔
اویس لغاری نے خبردار کیا کہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق پیدا ہونے والے کسی بھی تنازع کے اثرات صرف پاکستان اور بھارت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے خطے پر وسیع تر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

