بیرسٹر گوہر کا خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج مسترد کرنے کا اعلان

اسلام آباد (کیپیٹل نیوز پوائنٹ) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے ممکنہ نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت ایسے اقدامات کو یکسر مسترد کرتی ہے ، ان کا الزام ہے کہ دہشت گردی کو بنیاد بنا کر پی ٹی آئی کے خلاف کارروائی کی کوشش کی جارہی ہے، تاہم ان کی جماعت ہر فورم پر اس کے خلاف آواز اٹھائے گی۔

بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ ماضی میں دو تہائی اکثریت رکھنے والے صوبے میں بھی ایمرجنسی نافذ نہیں کی گئی ، ان کے مطابق پی ٹی آئی کے خلاف ایک مخصوص بیانیہ تشکیل دیا جارہا ہے، جس کی وہ تردید کرتے ہیں۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی تین بہنیں گرفتار ہوئیں اور وہ اڈیالہ اور کوٹ لکھپت جیل میں ہیں، انہوں نے کہا کہ پارٹی کے تقریباً 1,500 کارکن پنجاب کی جیلوں میں قید ہیں، جبکہ ان کے بقول پی ٹی آئی کے تین وزرا کو فائرنگ کے بعد گرفتار کیا گیا۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ملک میں ’’ایک ریاست، دو دستور‘‘ کا عملی مظاہرہ دیکھنے میں آیا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے پارلیمان، عدالتوں اور دیگر فورمز پر اپنی آواز بلند کی، لیکن ریلیف نہ ملنے کے بعد لانگ مارچ کے سوا ان کے پاس کیا راستہ باقی رہ گیا تھا۔

بیرسٹر گوہر خان کے مطابق پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان 15 ملاقاتیں ہوئیں اور دو روز تک مذاکرات جاری رہے، انہوں نے کہا کہ ملاقات کے دوران انہیں اس بات پر افسوس ہوا کہ انہیں حکومت کے سامنے نہیں بیٹھنا چاہیے تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران اچانک دہشت گردی سے متعلق نکات بھی شامل کرلیے گئے ، انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایمرجنسی ضروری ہے تو پھر پورے صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کی بات کیوں کی جارہی ہے ، بیرسٹر گوہر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان سے رابطہ بھی نہیں ہو پا رہا۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ان کی جماعت ایمرجنسی اور گورنر راج دونوں کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے ، انہوں نے ان سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے گورنر راج کی مخالفت کی ، بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے آئینی حدود کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہشت گردی کا حوالہ دے کر پی ٹی آئی کو سیاسی طور پر محدود کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا، ’’لگتا ہے پورے پاکستان کا بندوبست آپ نے کرلیا ہے ،‘‘ ان کے مطابق پی ٹی آئی مبینہ ناانصافیوں کے خلاف ہر آئینی اور قانونی فورم پر آواز بلند کرے گی ، بیرسٹر گوہر خان نے عمران خان کے علاج کا مطالبہ کرتے ہوئے سوال کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو علاج کی سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ غلط کیسے ہوسکتا ہے ، انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت نے پہلے ہی واضح کردیا تھا کہ یہ ’’انصاف مارچ‘‘ ہے، شوقیہ مارچ نہیں۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ پاکستان سب سے مقدم ہے اور ان کی جماعت ملک کے مفاد کو ترجیح دیتی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح پی ٹی آئی 2025 میں بھارت کے خلاف کھڑی ہوئی تھی، اسی طرح آئندہ بھی پاکستان کے لیے کھڑی ہوگی ، بیرسٹر گوہر نے ایک بار پھر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے ممکنہ نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت اس معاملے پر اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔