Pakistan’s $8 Trillion Mineral Potential , Reko Diq Could Generate $90 Billion in Operating Cash Flow Capitalnewspoint.com

پاکستان کے معدنی ذخائر 8 ٹریلین ڈالر کے؟ ریکو ڈک سے 90 ارب ڈالر کیش فلو کی توقع

اسلام آباد (کیپیٹل نیوز پوائنٹ) پاکستان اپنے معدنی شعبے کو ترقی دینے کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، جہاں تانبے، سونے، کرومائٹ، لیتھیم اور نایاب معدنیات کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی طلب ملک کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے ، پاکستان میں وسیع معدنی ذخائر موجود ہیں، تاہم ان وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، بہتر انفراسٹرکچر، سرمایہ کاری اور مؤثر حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔

انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICMAP) کے مطابق پاکستان کے معدنی ذخائر کا تخمینہ تقریباً 8 ٹریلین ڈالر ہے، جو لگ بھگ 6 لاکھ مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں ، ملک میں 92 معلوم معدنیات موجود ہیں، جن میں سے 52 معدنیات تجارتی بنیادوں پر نکالی جا رہی ہیں۔

ادارے کے مطابق کان کنی کے شعبے کا ملکی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) میں حصہ 3 فیصد سے بھی کم ہے، جو اس شعبے کی ممکنہ معاشی استعداد کے مقابلے میں محدود ہے ، ICMAP کا اندازہ ہے کہ بہتر طرزِ حکمرانی اور مؤثر سیکیورٹی انتظامات کے ذریعے پاکستان کی سالانہ معدنی برآمدات تقریباً 3 ارب ڈالر سے بڑھ کر 8 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں، جبکہ ملکی اقتصادی شرحِ نمو تقریباً 3 فیصد سے بڑھ کر 6 فیصد تک جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ریکو ڈک منصوبہ: پاکستان کی معدنی معیشت کا اہم ستون :

بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ریکو ڈک کاپر اینڈ گولڈ منصوبہ دنیا کے بڑے تانبے اور سونے کے ذخائر میں شمار ہوتا ہے۔ منصوبے میں بیرک مائننگ کا 50 فیصد، حکومتِ بلوچستان کا 25 فیصد اور تین وفاقی سرکاری اداروں، او جی ڈی سی، پی پی ایل اور جی ایچ پی ایل، کا مجموعی حصہ 25 فیصد ہے۔

بیرک نے فروری 2025 میں ریکو ڈک منصوبے کی تازہ فیزیبلٹی اسٹڈی مکمل ہونے کا اعلان کیا تھا۔ اس منصوبے سے پاکستان کی معیشت اور بالخصوص بلوچستان میں سرمایہ کاری، روزگار اور برآمدات کے مواقع بڑھنے کی توقع ہے۔

فیزیبلٹی اسٹڈی کے مطابق منصوبے کی متوقع مدتِ کان کنی 37 سال ہے، جبکہ مجموعی سرمایہ کاری کا تخمینہ 8.83 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ منصوبہ دو مراحل میں مکمل کیا جائے گا، جن میں پہلے مرحلے پر تقریباً 5.6 سے 6 ارب ڈالر خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔ منصوبے سے پہلی پیداوار 2028 کے اختتام تک متوقع ہے۔

پہلے مرحلے میں سالانہ 45 ملین ٹن خام معدنی مواد پراسیس کیا جائے گا، جس سے تقریباً 2 لاکھ 40 ہزار ٹن تانبا اور 2 لاکھ 97 ہزار اونس سونا سالانہ پیدا ہونے کی توقع ہے ، منصوبے کے دوسرے مرحلے کا آغاز 2034 میں متوقع ہے، جس کے بعد پراسیسنگ کی صلاحیت بڑھ کر سالانہ 90 ملین ٹن ہوجائے گی۔ دوسرے مرحلے کے ابتدائی 10 برسوں میں اوسط سالانہ پیداوار تقریباً 4 لاکھ 60 ہزار ٹن تانبا اور 5 لاکھ 20 ہزار اونس سونا رہنے کی توقع ہے۔

فیزیبلٹی اسٹڈی کے مطابق ریکو ڈک میں تقریباً 3 ارب ٹن معدنی مواد کے ممکنہ ذخائر موجود ہیں، جن میں اندازاً 1 کروڑ 50 لاکھ ٹن تانبا اور 2 کروڑ 60 لاکھ اونس سونا شامل ہے۔

ریکو ڈک سے 90 ارب ڈالر آپریٹنگ کیش فلو کی توقع :

بیرک کے اندازوں کے مطابق ریکو ڈک منصوبہ اپنی پوری مدتِ کان کنی کے دوران تقریباً 90 ارب ڈالر آپریٹنگ کیش فلو اور 70 ارب ڈالر فری کیش فلو پیدا کرسکتا ہے۔ یہ تخمینے منصوبے کی طویل مدتی معاشی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں، تاہم اصل نتائج پیداوار، عالمی منڈی میں دھاتوں کی قیمتوں، اخراجات اور دیگر عوامل سے متاثر ہوسکتے ہیں۔

ریکو ڈک بلوچستان میں بڑے غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری کے منصوبوں میں شامل ہے۔ اس منصوبے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی جانب سے 2.6 ارب ڈالر سے زائد کے مالیاتی پیکیج ترتیب دیے گئے ہیں۔

ایشیائی ترقیاتی بینک نے اگست 2025 میں 410 ملین ڈالر کی منظوری دی، جس میں 300 ملین ڈالر قرض اور بلوچستان کے حصص کے لیے 110 ملین ڈالر کی ضمانت شامل ہے۔ انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (IFC) اور انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایسوسی ایشن (IDA) نے جون 2025 میں 700 ملین ڈالر کے قرض کی منظوری دی، جبکہ امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک نے دسمبر 2025 میں 1.25 ارب ڈالر کی منظوری دی۔

امریکی حکام کے مطابق اس مالی معاونت سے امریکی کان کنی کے آلات کی برآمدات میں 2 ارب ڈالر تک اضافہ ممکن ہے، جبکہ دونوں ممالک میں تقریباً 13,500 ملازمتوں کو معاونت مل سکتی ہے۔ منصوبے کے فعال ہونے کے بعد پہلے سال کی برآمدات سے تقریباً 2.8 ارب ڈالر آمدنی کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

عالمی سطح پر تانبے اور نایاب معدنیات کی طلب میں اضافہ :

دنیا بھر میں بجلی کی بڑھتی ہوئی ضروریات، توانائی کی منتقلی، برقی گاڑیوں اور ڈیٹا سینٹرز کی توسیع کے باعث تانبے کی طلب میں اضافے کا امکان ہے۔ صنعتی اندازوں کے مطابق عالمی سطح پر تانبے کی طلب 2035 تک 24 فیصد بڑھ کر سالانہ 42.7 ملین ٹن تک پہنچ سکتی ہے۔

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (IEA) کے مطابق مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ڈیٹا سینٹرز میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب بھی اس رجحان کو تیز کرسکتی ہے۔ اسی طرح یورپی یونین اور امریکا کی جانب سے نایاب زمینی عناصر کی سپلائی چینز کو وسعت دینے کی کوششوں نے قابلِ اعتماد معدنی ذرائع کی اہمیت بڑھا دی ہے۔

پاکستان کے لیے یہ صورتِ حال معدنی وسائل کی تلاش، جدید کان کنی، مقامی پراسیسنگ اور تیار مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کا موقع فراہم کرسکتی ہے۔ تاہم اس کے لیے شفاف معاہدوں، ماحولیاتی تحفظ، مقامی آبادی کی شمولیت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو یقینی بنانا ضروری ہوگا۔

سیندک منصوبہ اور امریکا کے ساتھ معدنی تعاون :

پاکستان میں معدنیات کی تلاش اور کان کنی کی تاریخ ریکو ڈک سے کئی دہائیاں پرانی ہے۔ بلوچستان میں سیندک کاپر گولڈ منصوبے کی بنیاد 1950 کی دہائی میں کیے گئے فضائی سروے اور 1960 کی دہائی میں جیولوجیکل سروے آف پاکستان کی معدنی تلاش سے جڑی ہے۔ یہ منصوبہ چینی شراکت داری کے تحت تیار کیا گیا۔

8 ستمبر 2025 کو پاکستان کی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) اور امریکی ریاست میسوری میں قائم یو ایس اسٹریٹجک میٹلز (USSM) کے درمیان اہم معدنیات کی ترقی، پراسیسنگ اور لاجسٹکس سروسز سے متعلق دو مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

وزیراعظم آفس کے مطابق اس تعاون کا مقصد دفاع، ایرو اسپیس اور ٹیکنالوجی کی صنعتوں کے لیے درکار اہم معدنیات کے شعبے میں تعاون کا فریم ورک قائم کرنا ہے۔ ان معدنیات میں اینٹی منی، تانبا، سونا، ٹنگسٹن اور نایاب زمینی عناصر شامل ہیں۔

اعلان کردہ منصوبے کے تحت پاکستان میں دستیاب اہم معدنیات کی برآمدات شروع کرنے اور مستقبل میں یو ایس اسٹریٹجک میٹلز کی ملکیت میں جدید کثیر دھاتی ریفائنری قائم کرنے کی بنیاد فراہم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔ مجوزہ ریفائنری میں نیم تیار اور تیار مصنوعات تیار کی جاسکیں گی، جنہیں امریکی مارکیٹ کی طلب پوری کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔

اس تعاون کے پہلے مرحلے میں پاکستان کے اہم معدنیات کے شعبے میں تقریباً 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع بتائی گئی ہے۔ مفاہمتی یادداشتوں کے اگلے مراحل میں معدنی وسائل کی صلاحیت کا جائزہ لینے، برآمد کے لیے معدنیات کی نشاندہی اور کان کنی و پراسیسنگ کے شعبوں میں طویل مدتی شراکت داری کے امکانات کا تعین شامل ہے۔

معاہدے میں پائیداری، منافع بخش کاروبار اور ماحولیاتی ذمہ داری کو بھی اہمیت دی گئی ہے تاکہ معدنی وسائل کی ترقی کے فوائد دونوں ممالک اور مقامی آبادیوں تک پہنچ سکیں۔

پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026: عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش :

پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم (PMIF) حکومت کا اہم پلیٹ فارم ہے، جس کا مقصد ملک کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور پاکستان کو عالمی سرمایہ کاروں، کان کنی کی کمپنیوں، مالیاتی اداروں اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں سے جوڑنا ہے۔

فورم کے پہلے ایڈیشن، PMIF25، میں 50 سے زائد ممالک کے تقریباً 5 ہزار مندوبین نے شرکت کی۔ اس موقع پر 16 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، جبکہ 18 پینل مباحثے بھی منعقد ہوئے۔

PMIF26 کا انعقاد ابتدائی طور پر 8 اور 9 اپریل 2026 کو اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں ہونا تھا، تاہم اسے دوبارہ شیڈول کرکے اب 12 اور 13 نومبر 2026 کو اسی مقام پر منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر برائے توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کے مطابق فورم کا مقصد کان کنی کے شعبے سے متعلق آگاہی بڑھانا اور پائیدار سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معدنی دولت کئی دہائیوں سے بڑی حد تک دریافت اور استعمال سے محروم رہی ہے۔

PMIF26 میں منصوبوں کی ترقی، معدنی تلاش، جدید ٹیکنالوجی، ویلیو ایڈیشن اور سرمایہ کاری پر توجہ دیے جانے کی توقع ہے ، فورم کے تکنیکی پروگرام میں ارضیاتی تحقیق، معدنی وسائل کا تخمینہ، ریموٹ سینسنگ، جیو فزکس اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز شامل ہوں گی، جن کے ذریعے پاکستان کے معدنی وسائل کی بہتر شناخت اور ترقی کی راہیں تلاش کی جاسکیں گی۔

معدنی دولت کو معاشی ترقی میں بدلنے کا چیلنج :

پاکستان کے معدنی وسائل ملک کے لیے برآمدات بڑھانے، روزگار پیدا کرنے اور صنعتی ترقی کو فروغ دینے کا اہم ذریعہ بن سکتے ہیں، ریکو ڈک جیسے بڑے منصوبوں، سیندک کے تجربے اور بین الاقوامی شراکت داریوں سے اس شعبے میں سرمایہ کاری کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔

تاہم معدنی ذخائر کی موجودگی بذاتِ خود معاشی ترقی کی ضمانت نہیں۔ منصوبوں کی کامیابی کے لیے امن و امان، شفاف حکمرانی، قابلِ اعتماد انفراسٹرکچر، ماحولیاتی تحفظ، مقامی آبادی کے حقوق اور معدنیات کی مقامی سطح پر پراسیسنگ پر توجہ دینا ہوگی ، اگر یہ عوامل مؤثر انداز میں یکجا کیے جائیں تو پاکستان اپنی معدنی دولت کو طویل مدتی معاشی ترقی اور قومی آمدنی میں اضافے کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔