Custam Pakistan Capitalnewspoint.com

اضاخیل ڈرائی پورٹ پر مبینہ جعلی پے آرڈرز کا معاملہ، دو سالہ ریکارڈ کے آڈٹ کا حکم

پشاور (کیپیٹل نیوز پوائنٹ) اضاخیل ڈرائی پورٹ پر مبینہ جعلی پے آرڈرز کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، 2 سال کے دوران جمع کرائے گئے تمام پے آرڈرز اور ان سے متعلقہ مالی لین دین کا جامع آڈٹ کرنے کا حکم دے دیا ہے ، ذرائع کے مطابق آڈٹ کا مقصد پے آرڈرز کی اصلیت، مالی ریکارڈ اور ممکنہ بے ضابطگیوں کا مکمل جائزہ لینا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اضاخیل ڈرائی پورٹ پر جعلی پے آرڈرز سامنے آنے کے بعد اب تک 3 ایف آئی آرز درج کی جا چکی ہیں، جن میں متعلقہ کمپنیوں کے علاوہ کسٹمز کے بعض ذمہ دار اہلکاروں کو بھی نامزد کیے جانے کی اطلاعات ہیں ، تاہم مقدمات میں نامزد افراد کے خلاف الزامات کی حتمی حیثیت کا تعین تحقیقات اور قانونی کارروائی کے بعد ہی ہو سکے گا۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے میں 2 سال کے دوران جمع ہونے والے پے آرڈرز، متعلقہ دستاویزات، ادائیگیوں اور مالی لین دین کا ریکارڈ جانچا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا کسی پے آرڈر میں جعل سازی کی گئی اور اس کے نتیجے میں قومی خزانے کو کتنا مالی نقصان پہنچا۔

ذرائع کے مطابق چیف کلیکٹر کسٹمز اپریزمنٹ پشاور عبدالوحید مروت نے واضح کیا ہے کہ سرکاری خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا تعین کرنے کے بعد اس میں ملوث پائے جانے والے تمام عناصر سے نقصان کی رقم وصول کی جائے گی ، معاملے میں ذمہ داری کا تعین شواہد، آڈٹ رپورٹ اور تحقیقات کی روشنی میں کیا جائے گا۔

اضاخیل ڈرائی پورٹ پر گزشتہ 2 سال کے پے آرڈرز کا جامع آڈٹ مکمل ہونے کے بعد مالی بے ضابطگیوں کی نوعیت، ممکنہ نقصان اور ذمہ داروں کے تعین کے حوالے سے مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔