کشمیر کا مسئلہ فوجی طاقت سے نہیں، مذاکرات سے حل ہونا چاہیے. مظہر جمیل

لندن (کیپیٹل نیوز پوائنٹ) پاکستان کی نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) مظہر جمیل نے کہا ہے کہ بھارت کی ہندوتوا پالیسی پر مبنی سیاست خطے میں بدامنی کا باعث ہے ، انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل سٹریٹجک سٹڈیز کے زیر انتظام لندن میں سیمینار کے دوران نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) مظہر جمیل نے موجود ملکی و علاقائی صورتحال پر بات چیت کی۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) مظہر جمیل نے بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم اور علاقائی بالادستی کی سوچ کو جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ قرار دیا ، انہوں نے کہا کہ کہا کہ بھارت کی ہندوتوا پالیسی پر مبنی سیاست خطے میں بدامنی کا باعث ہے، بھارت کی جارحانہ عسکری سوچ اور جوہری صلاحیتوں میں تیز رفتار اضافہ جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک استحکام کیلئے خطرہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت کی جانب سے جوہری ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے کی پالیسی کے دعوے پر سوالیہ نشان ہے، بھارت کے میزائل پروگرام اور دوہری صلاحیتوں کے حامل ہتھیار خطے میں تصادم کا خطرہ بڑھا رہے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) مظہر جمیل نے کہا کہ مئی 2025 کے بحران میں بھارتی جارحیت نے جنوبی ایشیا کو جوہری تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا تھا، پاکستان نے بھارتی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کے بعد ذمہ دارانہ طرزِ عمل اپناتے ہوئے کشیدگی مزید نہیں بڑھائی۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی پالیسی واضح ہے، جارحیت کرنے والے کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی، پاکستان کا جوہری اور فل اسپیکٹرم ڈیٹرنس خطے میں اسٹریٹجک توازن برقرار رکھنے کا اہم ستون ہیں ، انہوں نے مزید بتایا کہ بھارت مسئلہ کشمیر کے حل سے گریز کرکے فوجی طاقت اور جارحیت کے ذریعے تنازع دبانے کی کوشش کر رہا ہے، مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہئے۔

مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل (ر) مظہر جمیل نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے بھارت کو سیاسی مکالمے کا راستہ اپنانا ہوگا۔