تہران (کیپیٹل نیوز پوائنٹ) ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 4 تیل بردار جہاز سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آگئے، تاہم جہازوں کی شناخت اور عملے کی صورتِ حال سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کا کہنا ہے کہ یہ جہاز ایران کی جانب سے غیر مجاز قرار دیے گئے جنوبی بحری راستے سے گزر رہے تھے ، آگ لگنے کے بعد جہازوں کو آبنائے ہرمز کے جنوبی ساحل کے قریب چھوڑ دیا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا کہ جہازوں نے اپنے ریڈار اور راستے کی نشاندہی کرنے والے نگرانی کے نظام بند کر رکھے تھے اور انتباہ کے باوجود ممنوعہ راستے سے گزرنے کی کوشش کی ، بیان میں کہا گیا کہ ان واقعات کے نتیجے میں سمندر میں آلودگی پھیلی، جس کی ذمہ داری جہازوں کے مالکان اور عملے پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ انہوں نے مبینہ طور پر غیر قانونی راستہ اختیار کیا اور انتباہات کو نظرانداز کیا۔
پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے خواہش مند جہازوں کو خبردار کیا کہ وہ امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کردہ اطلاعات پر بھروسا نہ کریں اور اشتعال انگیز کارروائیوں سے گریز کریں۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے متعلق ایرانی میڈیا کی اطلاعات مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی فوج نے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ مرکزی بحری راستوں سے بارودی سرنگیں ہٹا دی ہیں ، واضح رہے کہ جہازوں میں آگ لگنے، بارودی سرنگوں سے ٹکرانے اور عملے کی صورتِ حال سے متعلق ایرانی دعوؤں کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں۔

