اسلام آباد(کیپیٹل نیوز پوائنٹ)پاکستان میں مملکتِ سعودی عرب کے سفیر ڈاکٹر راجح تامی البقمی نے جمعرات کے روز وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک سے ملاقات کی ، وفاقی وزیر نے سعودی سفیر کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا اور دونوں ممالک کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو عملی تعاون اور باہمی مفاد کے اقدامات کے ذریعے مزید مستحکم بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے صنعت، توانائی، تعلیم و تحقیق، ٹیکنالوجی، کاروباری ترقی اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا ، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیرِاعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی قیادت میں سعودی عرب میں جاری معاشی اور سماجی تبدیلیوں کو سراہا۔
انہوں نے وژن 2030 کے تحت کاروباری سرگرمیوں، تعلیم، صنعت، کھیلوں اور شہری ترقی کے شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کیا، جن میں نیوم (NEOM) اور سعودی گرین انیشی ایٹو جیسے اقدامات بھی شامل ہیں ، وفاقی وزیر نے کہا کہ سعودی عرب میں اصلاحات نے کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے زیادہ سازگار ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے سعودی نوجوانوں میں کاروبار کے بڑھتے ہوئے رجحان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کاروباری ترقی اور جدت طرازی پر توجہ پاکستان کے لیے بھی قابلِ تقلید مثالیں فراہم کرتی ہے ، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل، تزویراتی جغرافیائی محلِ وقوع، بندرگاہوں، معدنی دولت اور نوجوانوں کی بڑی آبادی جیسی نمایاں خصوصیات کا حامل ہے۔
انہوں نے ان وسائل کو پائیدار معاشی ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے واضح وژن، مؤثر حکمتِ عملی پر عمل درآمد، ٹیکنالوجی اور انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا ، سعودی سفیر نے پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور اہم شعبوں میں ترقیاتی کوششوں کی معاونت کے لیے مملکت کی آمادگی کا اظہار کیا۔
انہوں نے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ٹیکنالوجی، مہارتوں کی ترقی اور قومی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرکے انہیں بااختیار بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا ، ملاقات میں صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان روابط کو فروغ دینے، ٹیکنالوجی کی منتقلی، توانائی اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں قریبی تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
دونوں فریقین نے اس امر کو بھی اجاگر کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کو ایشیا، یورپ اور افریقہ کی منڈیوں تک رسائی کے حوالے سے اہم تزویراتی فوائد حاصل ہیں ، ملاقات میں دوطرفہ تعاون کے لیے مشترکہ وژن تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ترجیحی شعبوں کی نشاندہی اور ٹھوس نتائج کے حامل مشترکہ اقدامات کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کو فعال کیا جائے۔
ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے سعودی عرب کے ساتھ شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مسلسل روابط اور مربوط کوششوں کے ذریعے دونوں ممالک کے مشترکہ ترقیاتی اہداف کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

