اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری سے پاکستان بزنس کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جاوید قریشی کی قیادت میں آئے وفد نے ملاقات کی ، ملاقات میں پاور سیکٹر میں بجلی کی طلب بڑھانے، دستیاب پیداواری صلاحیت کے مؤثر استعمال، لاگت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے لیے بجلی کے استعمال کو فروغ دینے کے امکانات پر غور کیا گیا۔
اس موقع پر پاکستان بزنس کونسل کی جانب سے ڈاکٹر نوید ارشد نے تیار کردہ اسٹریٹجک فریم ورک پر پریزنٹیشن دی، جس میں پاور سیکٹر کو درپیش طلب اور لاگت کے باہمی چیلنجز، بجلی کی کھپت بڑھانے کے امکانات اور موجودہ پیداواری صلاحیت کے بہتر استعمال سے متعلق مختلف تجاویز پیش کیں ، آئندہ 5 سے 7 سال کے دوران بجلی کی سالانہ طلب میں تقریباً 44 سے 45 ٹیرا واٹ آور تک اضافے کے امکانات کا جائزہ بھی پیش کیا گیا۔
پریزنٹیشن میں الیکٹرک بسوں اور گاڑیوں، گیس ٹو گرڈ منتقلی، زراعت، ڈیٹا سینٹرز، ریلوے اور صنعتی شعبوں میں بجلی کے استعمال کو فروغ دینے کے مختلف امکانات پر غور کیا گیا ، یہ بھی بتایا گیا کہ اضافی بجلی کی طلب پیدا کرکے موجودہ فکسڈ کیپیسٹی لاگت کو زیادہ یونٹس پر تقسیم کیا جا سکتا ہے، جس سے فی یونٹ لاگت میں استحکام لانے میں مدد ملے گی۔
وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ بجلی کی طلب میں اضافہ، دستیاب پیداواری صلاحیت کا مؤثر استعمال اور پاور سیکٹر کی لاگت میں کمی حکومت کی اصلاحاتی ترجیحات میں شامل ہیں ، انہوں نے بتایا کہ حکومت پاور سیکٹر کی لاگت کم کرنے اور صارفین پر غیر ضروری بوجھ کو کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات پر پہلے ہی کام کر رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ تقریباً 2 کروڑ 10 لاکھ صارفین اس وقت 40 سے 50 فیصد تک سبسڈی سے مستفید ہو رہے ہیں اور حکومت کراس سبسڈی کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے اصلاحات کر رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ پاور سیکٹر کی لاگت کو کم کرنا اور سبسڈی کے نظام کو زیادہ مؤثر اور پائیدار بنانا ضروری ہے تاکہ صارفین پر غیر ضروری مالی بوجھ کم کیا جا سکے۔
سردار اویس احمد خان لغاری نے واضح کیا کہ حکومت ایسے منصوبوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرے گی جو کم ترین لاگت کے اصول کی خلاف ورزی کا باعث بنیں ، انہوں نے کہا کہ اگر کسی منصوبے کے نتیجے میں کم ترین لاگت کے اصول سے انحراف ہوتا ہے تو اس کا اضافی مالی بوجھ صارفین پر منتقل نہیں کیا جائے گا بلکہ متعلقہ منصوبے کو یہ لاگت خود برداشت کرنا ہوگی۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ دو سالوں میں ڈسکوز کے نقصانات کو کم کر کے 265 ارب روپے کی بچت ممکن ہوئی اور ان کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے بھی عملی اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں اصلاحات کا مقصد صرف لاگت کم کرنا نہیں بلکہ نظام کو زیادہ مؤثر اور صارف دوست بنانا ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ صنعتی شعبے میں اضافی بجلی کی طلب پیدا کرنے کے لیے ٹائم آف یوز ٹیرف سے صنعتوں کو معمول کی کھپت سے زائد بجلی استعمال کرنے پر اضافی بجلی فی یونٹ کم نرخ پر ملے گی، جس سے بجلی کی کھپت اور پیداواری صلاحیت کے استعمال میں اضافہ ہو سکے گا۔
وفاقی وزیر نے مقامی کوئلے کے استعمال کے حوالے سے بتایا کہ درآمدی کوئلے پر چلنے والے پاور پلانٹس کو مقامی کوئلے پر منتقل کرنے سے متعلق مطالعات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئلے کی تبدیلی سے درآمدی کوئلے پر انحصار کم ہوگا اور مقامی کوئلے کے استعمال سے بجلی کی پیداوار میں درآمدی ضرورت اور اس سے منسلک لاگت کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ حکومت ملک میں بجلی کی رسائی بڑھانے کے لیے بھی کام کر رہی ہے اور مستقبل قریب تک سو فیصد بجلی کی فراہمی کے ہدف کے حصول کے لیے اقدامات جاری ہیں ، انہوں نے کہا کہ بجلی کی طلب میں پائیدار اضافہ اسی وقت ممکن ہے جب ملک کے تمام علاقوں اور طبقات کو بجلی تک مؤثر رسائی حاصل ہو اور نئی طلب کو معاشی سرگرمیوں سے منسلک کیا جائے۔
وفاقی وزیر نے پاکستان بزنس کونسل کی جانب سے پاور سیکٹر میں بجلی کی طلب بڑھانے اور لاگت کم کرنے کے امکانات پر غور کے لیے پیش کی گئی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی مشاورت سے جاری اصلاحاتی عمل کو مزید مؤثر بنانے میں مدد مل سکتی ہے ، انہوں نے کہا کہ حکومت پاور سیکٹر میں طلب، لاگت، کارکردگی اور صارفین کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے قابلِ عمل اقدامات پر کام جاری رکھے گی۔

