اسلام آباد (کورٹ رپورٹر) اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہریوں کو سفری پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے اور ایئرپورٹ پر آف لوڈ کیے جانے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ایف آئی اے حکام پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے شہری رب نواز کو بیرون ملک سفر کی اجازت دے دی ، جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے شہری رب نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بیرون ملک جائیں، اگر کسی نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو عدالت اس معاملے کو دیکھے گی۔ عدالت نے واضح کیا کہ شہری کا کیس بدستور زیر التوا رہے گا۔
سماعت کے دوران عدالت نے ایف آئی اے حکام سے استفسار کیا کہ شہریوں کو آف لوڈ کرنے یا ان کے نام سفری پابندی کی فہرست میں شامل کرنے کا قانونی اختیار کس قانون کے تحت حاصل ہے ، ایف آئی اے کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ادارے کے اپنے ایس او پیز اور داخلی ضوابط موجود ہیں جن کے تحت کارروائی کی جاتی ہے۔ اس پر جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے سوال اٹھایا کہ اگر قانون اس کی اجازت نہیں دیتا تو محض ایس او پیز کی بنیاد پر شہریوں کو کیسے روکا جا سکتا ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے اور سپریم کورٹ بھی اس حوالے سے حکم جاری کر چکی ہے۔ جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ اگر کسی شہری کو غیر قانونی طور پر آف لوڈ کیا گیا تو متعلقہ افسر کے خلاف سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو لکھا جائے گا اور افسر کی ترقی روکنے کی سفارش بھی کی جا سکتی ہے ، جسٹس انعام امین منہاس نے ایف آئی اے حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ افسران کے پاس شہریوں کو روکنے کا اختیار نہیں، وہ عوامی خدمت پر مامور سرکاری ملازم ہیں اور انہیں اپنے اختیارات کا علم ہونا چاہیے۔
سماعت کے دوران ایف آئی اے حکام کے باہمی گفتگو کرنے پر بھی عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور ہدایت کی کہ عدالت میں آپس میں بات نہ کی جائے۔ عدالت نے کہا کہ اگر کوئی مشاورت کرنی ہے تو اپنے دفتر جا کر ڈی جی سے کی جائے ، ایف آئی اے حکام کی جانب سے کسی سفارتخانے کی ہدایات کا حوالہ دیے جانے پر بھی عدالت نے سخت ریمارکس دیے۔ جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ پاکستان میں پاکستانی قانون نافذ ہوگا، کسی دوسرے ملک یا سفارتخانے کی ہدایات کے تحت شہریوں کو روکنے کی وضاحت نہیں دی جا سکتی۔
عدالت نے سوال کیا کہ اگر کسی شہری کے پاسپورٹ، ویزا اور واپسی کا ٹکٹ موجود ہو تو اسے ایئرپورٹ پر آف لوڈ کرنے کی قانونی بنیاد کیا ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو ڈی جی ایف آئی اے کو طلب کرکے پوچھا جائے گا کہ کون سے ایس او پیز قانون سے بالاتر قرار دیے جا رہے ہیں ، ایف آئی اے کے وکیل نے دوبارہ مؤقف اختیار کیا کہ ادارے کے داخلی ضوابط کے تحت ایسی کارروائی کی جاتی ہے۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ کیا ایف آئی اے کو قانون بنانے کا اختیار حاصل ہے؟ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر ہر ادارہ اپنے الگ ایس او پیز بنا کر قانون سے بالاتر سمجھنے لگے تو اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں ، عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر مکمل تیاری کے ساتھ پیش ہوں اور عدالت کی معاونت کریں ، ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے زنیرہ کو بھی ذاتی حیثیت میں تفصیلی جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت 24 ستمبر تک ملتوی کردی۔

