New Housing Policy Focuses on Affordable and Sustainable Housing Capitalnewspoint.com

نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2025 جاری، کم آمدن والے طبقات کیلئے اہم اقدامات

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر)وزیراعظم شہباز شریف نے وزارتِ مکانات و تعمیرات عالمی یومِ آبادکاری 5 اکتوبر کے موقع پر قومی ہاؤسنگ پالیسی 2025 کا اجراء کر دیا، 5 اکتوبر 2026 وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس نے یو این ہیبی ٹیٹ پاکستان کے اشتراک سے قومی ہاؤسنگ پالیسی 2025 کا اجراء کر دیا، جو تقریباً 25 سال بعد ملک کی قومی ہاؤسنگ پالیسی میں پہلی جامع پیش رفت ہے۔

اس سلسلے میں آج نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)، اسلام آباد میں ایک تقریب منعقد کی گئی، جہاں وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس میاں ریاض حسین پیرزادہ نے پالیسی کا باضابطہ اجراء کیا ، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ ڈاکٹر مصدق مسعود ملک تقریب کے اعزازی مہمان تھے ، تقریب میں اعلیٰ حکومتی نمائندگان، ماہرینِ تعلیم، ترقیاتی شراکت داروں اور دیگر اہم اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی، جو پالیسی فریم ورک کو مؤثر عملی اقدامات میں ڈھالنے پر بڑھتی ہوئی توجہ کی عکاسی کرتی ہے۔

نئی پالیسی ہر فرد کے لیے مناسب، سستی اور پائیدار رہائش کی فراہمی کے قومی عزم کو مزید مستحکم کرتی ہے۔ یہ پالیسی پاکستان کی بدلتی ہوئی رہائشی اور شہری ترقی کی ضروریات سے نمٹنے کے لیے ایک جدید قومی فریم ورک فراہم کرتی ہے ، قومی ہاؤسنگ پالیسی 2025 کا اجراء عالمی یومِ آبادکاری 2026 کے موقع پر کیا گیا، جو ہر سال 5 اکتوبر کو عالمی سطح پر منایا جاتا ہے۔

اس سال عالمی یومِ آبادکاری کا موضوع “سب کے لیے مناسب رہائش” (Adequate Housing for All) ہے ، اس دن کا مقصد مناسب رہائش اور بنیادی سہولیات تک رسائی کو فروغ دینا ہے، جو پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) اور نئے شہری ایجنڈے (New Urban Agenda) کے حصول کی جانب ایک بنیادی قدم ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ و ورکس اور تقریب کے مہمانِ خصوصی میاں ریاض حسین پیرزادہ نے تقریباً 25 سال بعد قومی ہاؤسنگ پالیسی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا اور پالیسی کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ، انہوں نے کہا کہ قومی ہاؤسنگ پالیسی کے جامع مقاصد میں سستی رہائش کی فراہمی میں اضافہ، اراضی کے حقوقِ ملکیت و قبضہ کا تحفظ، ہاؤسنگ فنانس تک رسائی میں توسیع اور غیر رسمی آبادیوں کی ترقی و بہتری شامل ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ قومی ہاؤسنگ پالیسی 2025 وزیراعظم محمد شہباز شریف کی براہِ راست رہنمائی اور نگرانی میں تشکیل دی گئی ہے، جبکہ وزیراعظم اور ان کی خصوصی ٹیم کی قابلِ قدر کاوشوں اور تعاون سے یہ پالیسی ممکن ہوئی ، وفاقی وزیر نے وزیراعظم کے فلیگ شپ اقدام “وزیراعظم اپنا گھر پروگرام، گھر ہو تو اپنا” کو خصوصی طور پر اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کے تحت اب تک ملک بھر میں پہلی مرتبہ گھر خریدنے والے افراد کو 65 ارب روپے فراہم کیے جا چکے ہیں ، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم خود اس پروگرام پر عملدرآمد کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے زور دیا کہ یہ اسکیم قومی ہاؤسنگ پالیسی 2025 کے ایکشن پلان کا اہم جزو ہے، جس کا مقصد کم اور متوسط آمدنی والے خاندانوں کے لیے ہاؤسنگ فنانس کو مزید قابلِ رسائی اور سستا بنانا اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنے گھر کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے قابل بنانا ہے ، وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ قومی ہاؤسنگ پالیسی 2025 پاکستان کو عوام کی رہائشی ضروریات سے نمٹنے کے لیے ایک نیا اور مؤثر فریم ورک فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب ہماری ترجیح پالیسی پر مؤثر عملدرآمد، مناسب اور سستی رہائش تک رسائی میں توسیع، ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنانا اور ملک بھر میں زیادہ پائیدار اور موسمیاتی اثرات کے مقابلے میں مضبوط آبادیاں تشکیل دینا ہے ، “سب کے لیے مناسب رہائش ،عالمی عزم سے قومی اقدام تک” کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے یو این ہیبی ٹیٹ پاکستان کے کنٹری پروگرام مینیجر، وقار سید نے رہائش اور شہری ترقی کے لیے عوام پر مرکوز طریقہ کار کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ مناسب رہائش صرف سر چھپانے کے لیے چھت کا نام نہیں بلکہ یہ وقار، مواقع اور مضبوط و لچکدار معاشروں کی بنیاد ہے ، انہوں نے کہا کہ یو این ہیبی ٹیٹ پاکستان میں اداروں کو مضبوط بنانے اور ایسی رہائشی سہولیات کے فروغ کے لیے حکومتِ پاکستان کی معاونت جاری رکھے گا جن سے کوئی فرد محروم نہ رہے۔

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے رہائش، موسمیاتی لچک، پائیدار شہری ترقی اور قومی ترقیاتی منصوبہ بندی کے درمیان مضبوط تعلق کو اجاگر کیا ، انہوں نے کہا کہ قومی ہاؤسنگ پالیسی 2025 اور اس کا ایکشن پلان پاکستان کے عوام کو درپیش ہاؤسنگ کے اہم چیلنجز سے نمٹنے کے لیے واضح اور جامع اقدامات پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ پالیسی ملک میں تقریباً 1 کروڑ 30 لاکھ رہائشی یونٹس کے ہاؤسنگ شارٹ فال کو کم کرنے میں مدد دے گی، جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید بڑھتا جا رہا ہے ، وفاقی وزیر نے حکومتِ پاکستان کی نئی ہاؤسنگ فنانس پالیسی کو بھی اجاگر کیا اور اسے ہمسایہ ممالک میں جاری اسی نوعیت کے اقدامات کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ معاون قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کے تحت گھر کی ملکیت کے لیے 90 فیصد تک فنانسنگ/ایکویٹی سپورٹ فراہم کی جا رہی ہے، جس سے بالخصوص کم اور متوسط آمدنی والے طبقات کے لیے اپنا گھر حاصل کرنا مزید آسان ہو گیا ہے ، تقریب کے اختتام پر وفاقی سیکریٹری، وزارتِ ہاؤسنگ و ورکس، کیپٹن (ر) محمد محمود رائے نے قومی ہاؤسنگ پالیسی پر مؤثر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا ، انہوں نے کہا کہ پالیسی کے عملی نفاذ کے مرحلے میں ادارہ جاتی روابط، مسلسل تعاون اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی شراکت کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔