اسلام آباد (کیپیٹل نیوز پوائنٹ) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تجویز کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے مذاکرات اور ثالثی کے لیے ان سے رابطہ کیا، لیکن پی ٹی آئی کے مطالبات پر پیش رفت کے باوجود بعد میں وعدہ خلافی کی ، انہوں نے کہا کہ انہیں پہلے ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ حکومت فیصلہ کرچکی ہے۔
مولانا فضل الرحمان کے مطابق ساتھیوں کے مشورے پر وہ وزیراعظم سے ملاقات کے لیے گئے تھے، تاہم اس سے قبل وزیراعظم کی جانب سے فون موصول ہوا تھا جس کے بعد وہ وزیراعظم ہاؤس پہنچے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ پہلے لانگ مارچ ختم کیا جائے، جبکہ پی ٹی آئی کا مطالبہ تھا کہ عمران خان سے ملاقات کرائی جائے اور انہیں اسپتال منتقل کرنے سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کیا جائے۔
مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ حکومت اور پی ٹی آئی دونوں ایک دوسرے سے پہلے قدم اٹھانے کا مطالبہ کررہی تھیں ، اس صورت حال میں انہوں نے دونوں فریقین کو تجویز دی کہ انہیں ثالثی اور فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جائے تاکہ معاملے کو آگے بڑھایا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو بھی اعتماد میں لینے کی تجویز دی گئی۔ اس سلسلے میں کانفرنس کال پر سہیل آفریدی، بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر سے بات ہوئی، جس کے دوران انہوں نے وزیراعلیٰ سے پوچھا کہ لانگ مارچ ختم کرنے کے لیے کیا درکار ہے۔
مولانا فضل الرحمان کے مطابق سہیل آفریدی نے جواب دیا کہ اگر مطالبات تسلیم کرلیے جائیں تو لانگ مارچ ختم کیا جاسکتا ہے ، مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ اگلی صبح وزیراعظم ہاؤس گئے اور وزیراعظم کو بتایا کہ پی ٹی آئی لانگ مارچ ختم کرنے پر آمادہ ہے ، انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ عمران خان سے ملاقات اور ان کے علاج کی سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی جائے۔
ان کے مطابق وزیراعظم نے بتایا کہ کابینہ کا اجلاس شام کو بھی ہوسکتا ہے ، مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ وہ پشاور جاکر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت دیگر رہنماؤں سے بات کرنا چاہتے تھے اور اپنی نگرانی میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کے دو، دو رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات آگے بڑھانے کے خواہش مند تھے۔
مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کابینہ اجلاس کے دوران انہیں فون کیا اور بتایا کہ حکومت دہشت گردی کے باعث ایمرجنسی نافذ کرنا چاہتی ہے ، انہوں نے کہا کہ انہوں نے اسحاق ڈار سے سوال کیا کہ اگر بلوچستان میں حالات خیبرپختونخوا سے بھی زیادہ خراب ہیں تو وہاں گورنر راج کیوں نافذ نہیں کیا گیا ، ان کے مطابق انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب کابینہ نے خود ہی فیصلہ کرنا تھا تو پھر انہیں ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے کیوں کہا گیا۔
مولانا فضل الرحمان نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے ان کی بات ماننے کے باوجود وعدہ خلافی کی، اور وہ اس معاملے کے گواہ ہیں ، جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ نے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ پیپلز پارٹی ہی آئین اور جمہوریت کو دفن کررہی ہے۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی ماضی میں چار مرتبہ گورنر راج نافذ کرچکی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت آئین پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے اور خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے، مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ اگر آئینی خلاف ورزیوں کی بنیاد پر ایمرجنسی نافذ کرنا مقصود ہے تو سب سے پہلے ان کے بقول غیر آئینی وفاقی حکومت کے خلاف ایسا اقدام ہونا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف کے دور سے لے کر اب تک آپریشنز کی حکمت عملی ناکام رہی ہے ، ان کے مطابق ان سے بھی آپریشنز کی حمایت کا مطالبہ کیا جارہا ہے، لیکن نائن الیون کے بعد کیے گئے آپریشنز کے نتائج سامنے لائے جانے چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے ڈھائی سو کارکنوں کی لاشیں اٹھائی ہیں اور اگر سیکیورٹی فورسز قربانیاں دے رہی ہیں تو ان کے بقول عوام اور سیاسی کارکن بھی قربانیاں دے رہے ہیں ، مولانا فضل الرحمان نے ایک بار پھر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے مسئلے کا حل آئین، جمہوریت اور مؤثر حکمت عملی کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔

