عالمی ڈیجیٹل و اے آئی سمٹ میں شزہ فاطمہ خواجہ کی اہم گفتگو، پاکستان کی 5G اور ڈیجیٹل حکمتِ عملی پیش

​اسلام آباد (کیپیٹل نیوز پوائنٹ)​وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے جنوبی کوریا سیئول میں منعقد “عالمی ڈیجیٹل و اے آئی سمٹ” کے دوسرے روز منعقدہ اہم اعلیٰ سطحی پینل سیشن “The Last 2.6 Billion – Is Universal Connectivity a Broken Promise in the AI Era?” میں بطور کلیدی مقرر (Speaker) شرکت کی اور پاکستان کی ڈیجیٹل اور اے آئی حکمتِ عملی پر مفصل اور جامع موقف پیش کیا۔

​سیشن کے دوران سوالات کے تفصیلی جوابات دیتے ہوئے وفاقی وزیر آئی ٹی نے واضح کیا کہ وزیراعظم کے ‘ڈیجیٹل نیشن پاکستان ویژن’ کے تحت پاکستان مصنوعی ذہانت (AI) کو بنیادی طور پر نیٹ ورک کے چیلنج کے طور پر دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 70 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے جبکہ ٹیلی کام صارفین کی تعداد 20 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، جو معیاری اور معنی خیز کنیکٹیویٹی کی بڑھتی ہوئی طلب کو ظاہر کرتی ہے۔

وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ نے پینل کو آگاہ کیا کہ پاکستان نے مارچ 2026 میں اب تک کی سب سے بڑی اسپیکٹرم نیلامی کامیابی سے منعقد کی، جس میں 480 میگاہرٹز اسپیکٹرم نیلام کر کے 509 ملین امریکی ڈالر حاصل کیے گئے۔ اس نیلامی سے ٹیلی کام آپریٹرز کی ہولڈنگز 274 MHz سے بڑھ کر 754 MHz تک پہنچ گئی ہیں، جسے عالمی ادارے GSMA اور APT نے بھی سراہا۔ نیلامی کے محض چھ ماہ کے اندر ملک کے 24 بڑے شہروں میں 1,700 سے زائد سائٹس پر 5G سروس کا آغاز کر دیا گیا ہے جہاں اوسطاً 130 Mbps کی اسپیڈ مل رہی ہے، جبکہ گزشتہ دو سالوں میں ڈاؤن لوڈ اسپیڈ میں 68.1 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔

سوالات کے جواب میں وفاقی وزیر نے بتایا کہ ملک بھر میں 2 لاکھ 34 ہزار کلومیٹر سے زائد آپٹیکل فائبر کیبل بچھائی جا چکی ہے ، فائبر کی تیز رفتار تنصیب اور لاگت میں کمی کے لیے صوبائی حکومتوں کی باہمی مشاورت سے “رائٹ آف وے” (Right of Way) چارجز کو ملک گیر سطح پر مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے، جس سے بچنے والا پیسہ براہِ راست فائبر کیبل کی تنصیب پر خرچ ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان 6 سب میرین کیبلز (17 Tbps صلاحیت) کے ذریعے دنیا سے منسلک ہے اور CAREC ڈیجیٹل کوریڈور کے ذریعے وسطی ایشیا اور دنیا کے درمیان ڈیجیٹل پل بننے جا رہا ہے۔

​سیٹلائٹ سروسز اور ریگولیٹری اصلاحات کے حوالے سے دور دراز علاقوں جیسے بلوچستان کے صحراؤں اور شمالی پہاڑی سلسلہ جات کے لیے سیٹلائٹ ٹیکنالوجی (Direct-to-Device) کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اسپیس ایکٹیویٹیز ریگولیٹری بورڈ (PSARB) اور PTA سیٹلائٹ کمیونیکیشن اور لائسنسنگ فریم ورک کو حتمی شکل دے رہے ہیں ، انہوں نے واضح کیا کہ سیٹلائٹ سروسز پاکستان کے زمینی (Terrestrial) نیٹ ورکس کا متبادل نہیں بلکہ دور دراز مناطق میں مکمل معاون ثابت ہوں گی ، علاوہ ازیں، سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے نیا MVNO فریم ورک اور انفراسٹرکچر شیئرنگ پالیسی بھی جاری کر دی گئی ہے۔

​ڈیجیٹل شمولیت اور جینڈر گیپ میں نمایاں کمی پر شزہ فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ یو ایس ایف (USF) کے ذریعے 110 سے زائد اضلاع کی 22,100 سے زائد بستیوں کے 3 کروڑ 80 لاکھ افراد تک کنیکٹیویٹی پہنچائی گئی ہے ، 2025 کے دوران پاکستان میں 1.76 کروڑ اسمارٹ فونز مقامی طور پر تیار کیے گئے اور قسطوں پر فونز فراہم کرنے کی اسکیمز جاری ہیں۔ عالمی بینک کی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں موبائل کنیکٹیویٹی کا جینڈر گیپ (خواتین و مردوں کا فرق) 25 فیصد سے کم ہو کر محض 8 فیصد رہ گیا ہے، جبکہ ITU کی ICT ڈیجیٹل انڈیکس 2026 میں پاکستان کی درجہ بندی میں 27 درجات کا نمایاں سدھار آیا ہے۔

سیشن کے اختتام پر وفاقی وزیر نے اپنا پیغام دیتے ہوئے کہا: “عالمگیر کنیکٹیویٹی کوئی ٹوٹا ہوا وعدہ نہیں بلکہ ایک نامکمل وعدہ ہے ، ٹیکنالوجی اور مالیاتی وسائل موجود ہیں، صرف خطرات کے اشتراک (Risk Sharing) کی نیت درکار ہے ، اگر ہم کنیکٹیویٹی کو AI کی بنیاد بنائیں گے تو دنیا کے غیر منسلک 2.6 ارب افراد آئندہ کے کسٹمرز، تخلیق کار اور اختراع کار بنیں گے اور پاکستان اس شراکت داری کے لیے مکمل تیار ہے۔