آر سی سی آئی وومن بزنس ایکسپو 2026، خواتین کاروباری شخصیات کے لیے نئے مواقع

راولپنڈی(کیپیٹل نیوز پوائنٹ) راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (RCCI) کے زیر اہتمام “RCCI وومن بزنس اینڈ لائف سٹائل ایکسپو 2026” کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد خواتین کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کو فروغ دینا، گھریلو صنعتوں کی سرپرستی کرنا اور خواتین تاجروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا تھا۔

فاطمہ جناح وومن یونیورسٹی (FJWU) کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے آر سی سی آئی کے صدر نوشیرواں خلیل خان نے کہا کہ پائیدار اقتصادی ترقی، جدت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے خواتین تاجروں کو بااختیار بنانا انتہائی ضروری ہے ، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کی زیرِ قیادت چلنے والے کاروبار پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور وہ مارکیٹ تک رسائی، نیٹ ورکنگ اور کاروباری ترقی کے بہترین مواقع کی مستحق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس نمائش نے خواتین تاجروں کو اپنی مصنوعات اور خدمات پیش کرنے، اپنے برانڈ کی شناخت بڑھانے، ممکنہ گاہکوں سے رابطہ قائم کرنے اور کاروباری اشتراکِ عمل کی راہیں تلاش کرنے کے لیے ایک قیمتی پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔ اس طرح کے اقدامات گھریلو سطح پر قائم کاروباروں کو پائیدار اور مسابقتی اداروں میں تبدیل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

صدر آر سی سی آئی نے SMEs کی ترقی، ترغیبِ تجارت اور کاروبار دوست پالیسیوں کے لیے چیمبر کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ آر سی سی آئی چھوٹے کاروباری اداروں کو سہولت فراہم کرنے اور ان کی ترقی کے لیے سمیڈا (SMEDA) سمیت متعلقہ سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔
فاطمہ جناح وومن یونیورسٹی کے وفد کے اس دورے سے صنعت اور تعلیم کے باہمی تعلقات (academia-industry linkages) کو مزید تقویت ملی، جس میں کاروباری روح (entrepreneurship)، طالبات کی عملی شمولیت اور تعلیمی اداروں و کاروباری برادری کے درمیان تعاون پر گفتگو کی گئی۔

اس بات چیت کا مقصد تعلیمی علم اور عملی کاروباری تجربے کے درمیان حائل فاصلے کو ختم کرنا تھا تاکہ طالبات کو مارکیٹ کے رجحانات اور ابھرتے ہوئے مواقع سے آگاہ کیا جا سکے ، نوشیرواں خلیل خان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آر سی سی آئی خواتین کی زیرِ قیادت چلنے والے اداروں کی حمایت، جدت طرازی کی حوصلہ افزائی اور تاجروں، تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان تعاون کو فروغ دیتا رہے گا تاکہ ایک زیادہ جامع اور مضبوط معیشت قائم کی جا سکے۔