اسلام آباد (کیپیٹل نیوز پوائنٹ) اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کی پالیسیوں، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے امکانات سمیت ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر مشترکہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کرلیا ہے ، اپوزیشن رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ اے پی سی رواں ماہ منعقد کی جائے گی، جس کے لیے مختلف جماعتوں کے رہنماؤں پر مشتمل کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔
اپوزیشن رہنماؤں محمود خان اچکزئی، علامہ ناصر عباس، سلمان اکرم راجہ اور دیگر نے مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وہ مولانا فضل الرحمان سے اظہار یکجہتی کے لیے ان کی رہائش گاہ آئے ہیں، کیونکہ ان کے خلاف کردار کشی کی جارہی ہے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی کردار کشی کسی صورت قابل قبول نہیں، ایسے اقدامات سے اپوزیشن کو دبایا نہیں جاسکتا اور ہمیں آزمانے کی کوشش نہ کی جائے ، انہوں نے اعلان کیا کہ رواں ماہ آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی جائے گی، جس کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، پی ٹی آئی اور جمعیت علمائے اسلام کے درمیان رابطوں اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے بھی کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔
انہوں نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق اقدامات کی مشترکہ طور پر مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن ملک میں آئینی بالادستی اور جمہوری نظام کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔
علامہ ناصر عباس نے کہا کہ اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس آئندہ ہفتے یا دس روز میں منعقد ہونے کا امکان ہے۔ کانفرنس کی تیاریوں کے لیے سلمان اکرم راجہ، عامر ڈوگر اور کامران مرتضیٰ کمیٹی کے ارکان ہوں گے، جبکہ مصطفیٰ نواز کھوکھر اور اسلم غوری بھی کمیٹی میں شامل ہوں گے۔ ایڈووکیٹ خالد یوسف اور اخونزادہ حسین یوسفزئی اے پی سی کے کوآرڈینیٹر ہوں گے۔
علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ پاکستان کو غیر آئینی طریقے سے چلایا جارہا ہے اور موجودہ نظام کی بنیاد ہی درست نہیں۔ ان کے بقول انتخابات کے مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا گیا اور عدلیہ کی آزادی پر بھی حملے کیے گئے، انہوں نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے معاملے پر بھی تشویش کا اظہار کیا ، انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے خدشات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے اور اگر انہیں کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار سیاسی اور غیر سیاسی تمام متعلقہ عناصر ہوں گے۔
پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ نے بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بلڈ پریشر معمول پر نہیں آرہا اور ایک موقع پر 192 تک پہنچ گیا تھا، جس کے باعث ان کی صحت کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صورتحال ایسی ہے کہ اب محض شکوک و شبہات نہیں بلکہ سنجیدہ خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اس وقت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف ایک توانا آواز ہیں، آل پارٹیز کانفرنس قومی اتفاق رائے کی جانب پہلا قدم ثابت ہوگی، جس میں پی ٹی آئی اور جے یو آئی سمیت دیگر سیاسی قوتیں ایک ساتھ بیٹھ کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے تحفظ کے لیے ملک بھر کی سیاسی قوتوں کو آگے آنے کی دعوت دی جائے گی۔
اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کے لیے کمیٹی تشکیل دی جاچکی ہے اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مشاورت کا عمل مزید آگے بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ مختلف پالیسیوں پر ان کے تحفظات ہیں اور وہ سیاسی انداز میں قومی مسائل کو اجاگر کر رہے ہیں، تاہم جواب میں ذاتی نوعیت کی باتیں کی جارہی ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جنریٹر، کیبن اور کچن سے متعلق باتیں مضحکہ خیز ہیں۔ حکومت گزشتہ دس روز کے دوران انتہائی بے بس دکھائی دی ہے۔ ہم سیاسی لب و لہجے میں بات کر رہے ہیں، اس لیے جواب بھی اسی سیاسی انداز میں دیا جانا چاہیے ، انہوں نے کہا کہ ذاتی حملوں سے ان کا عزم کم نہیں ہوگا بلکہ دباؤ بڑھانے سے ان کا جذبہ مزید مضبوط ہوگا۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ان کی جدوجہد کسی ذاتی معاملے کے لیے نہیں بلکہ قوم اور عوام کے حقوق کے لیے ہے، پنجاب کو بھی حق حاصل ہے کہ وہ اپنی تحریک چلائے، انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے معاملے پر انہوں نے قومی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے تحفظات سامنے رکھے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ گوادر کو وفاق کے ماتحت لانے کی کوششوں پر بھی تحفظات ہیں، جبکہ سندھ کی ساحلی پٹی اور جزیروں کو وفاق کے کنٹرول میں لینے کی باتیں بھی سامنے آرہی ہیں، مولانا فضل الرحمان نے فاٹا انضمام کی مخالفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب صوبوں کے وسائل کے حوالے سے ایک نیا کھیل کھیلا جارہا ہے۔
حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ مذاکرات کے بعد کوئی تناؤ پیدا نہیں ہوا، معدنی وسائل اور صوبوں کے حقوق سے متعلق مؤقف وہ پہلے ہی اختیار کیے ہوئے تھے اور اب حالات سے ان کا مؤقف درست ثابت ہورہا ہے۔
اپوزیشن رہنماؤں کی اس ملاقات کو حکومت مخالف جماعتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے سیاسی رابطوں اور مشترکہ حکمت عملی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے، مجوزہ آل پارٹیز کانفرنس میں آئینی بالادستی، صوبائی خودمختاری، سیاسی صورتحال اور بانی پی ٹی آئی کی صحت سمیت اہم قومی معاملات زیر بحث آنے کا امکان ہے۔

