پارلیمنٹ سے گرفتاریاں،سارجنٹ ایٹ آرمز سمیت 5 سکیورٹی اہلکار معطل

سفارت خانوں میں کروڑوں کی مبینہ خرد برد، 6 سال سے تحقیقات التوا کا شکار ! پی اے سی کا ایف آئی اے پر اظہارِ برہمی

اسلام آباد (احسان بخاری) پارلیمانی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں وزارت خارجہ کے تحت بیرونِ ملک پاکستانی سفارت خانوں میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں اور مبینہ خرد برد کے متعدد واقعات سامنے آگئے ، مالی سال 2023-24 کے دوران وزارت خارجہ میں 2 ارب 86 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی، جبکہ آسٹریا، بلغاریہ اور جرمنی میں پاکستانی سفارت خانوں سے متعلق آڈٹ اعتراضات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔

قائم مقام چیئرمین پی اے سی سید نوید قمر کی زیر صدارت اجلاس میں آڈٹ حکام نے بتایا کہ آسٹریا میں پاکستانی سفارت خانے کے سابق اکاؤنٹنٹ سلمان قریشی نے مبینہ طور پر 16 کروڑ 56 لاکھ روپے اپنے اور اپنی اہلیہ کے ذاتی بینک اکاؤنٹس میں منتقل کیے۔ معاملہ ایف آئی اے کو بھجوایا گیا تھا، تاہم چھ سال گزرنے کے باوجود تحقیقات میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔

ایف آئی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ملزم کے خلاف دو ایف آئی آرز درج کی گئیں اور اسے گرفتار بھی کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں اسے ضمانت پر رہائی مل گئی۔ حکام کے مطابق حال ہی میں اینٹی منی لانڈرنگ کا چالان بھی جمع کرایا گیا ہے۔

چیئرمین پی اے سی سید نوید قمر نے ایف آئی اے کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چھ سال گزرنے کے باوجود کیس میں کوئی قابلِ ذکر پیش رفت نہیں ہوئی، انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ادارہ صرف سیاسی مقدمات پر توجہ دیتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی کیوں نہیں ہو سکی؟

رکن کمیٹی رانا قاسم نون نے بھی معاملے پر ایف آئی اے کے خلاف کارروائی کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ڈی جی ایف آئی اے کو آئندہ اجلاس میں طلب کرکے مالی خرد برد کے مقدمات میں تحقیقات اور ریکوری سے متعلق پیش رفت کی رپورٹ لی جائے گی۔

اجلاس میں ویانا میں پاکستانی سفارت خانے کے اکاؤنٹ سے مبینہ فراڈ کے ذریعے 16 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد نکالے جانے کا آڈٹ اعتراض بھی زیر بحث آیا، آڈٹ حکام نے سابق اکاؤنٹنٹ کو اس معاملے میں ملوث قرار دیا۔ کمیٹی کے سامنے سیکرٹری خارجہ اور آڈٹ حکام کے پیش کردہ اعداد و شمار میں فرق بھی سامنے آیا، جس پر کمیٹی نے وزارت خارجہ کو معاملے کی تازہ انکوائری کرانے اور 30 روز میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

سید نوید قمر نے اکاؤنٹنگ کے شعبے میں پیشہ ورانہ مہارت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صرف تین ماہ کی تربیت سے کوئی شخص مکمل اکاؤنٹنٹ نہیں بن سکتا ، آڈیٹر جنرل نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ اکاؤنٹنگ ایک باقاعدہ پیشہ ہے جس کے لیے کوالیفائیڈ افراد کی ضرورت ہوتی ہے، سیکرٹری خارجہ نے بتایا کہ اکاؤنٹنٹس کو تین ماہ کی تربیت دی جاتی ہے ، کمیٹی نے وزارت خارجہ کو بیرونِ ملک سفارت خانوں اور مشنز میں باقاعدہ کوالیفائیڈ اکاؤنٹنٹس تعینات کرنے کی ہدایت کردی۔

برلن سفارت خانے کا ایچ ای سی کے اکاؤنٹ سے 3 لاکھ 60 ہزار یورو قرض :

کمیٹی کے اجلاس میں برلن، جرمنی میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے اکاؤنٹ سے مبینہ طور پر غیر مجاز طور پر 3 لاکھ 60 ہزار یورو، یعنی 10 کروڑ روپے سے زائد کا قرض لینے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔

آڈٹ حکام نے بتایا کہ تین سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود یہ رقم واپس نہیں کی گئی۔ حکام کے مطابق ایچ ای سی کو مختص فنڈز صرف اسی مقصد کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں جس کے لیے پارلیمنٹ نے انہیں مختص کیا ہو۔

آڈیٹر جنرل نے واضح کیا کہ یہ رقم وزارت خارجہ کی نہیں بلکہ ایچ ای سی کی ہے اور وزارت خارجہ اسے اپنی مرضی سے خرچ نہیں کر سکتی۔ چیئرمین کمیٹی نوید قمر نے سوال اٹھایا کہ کسی دوسرے ادارے کی رقم استعمال کرنے کے لیے کس کی اجازت حاصل کی گئی اور کون سے مالیاتی قواعد پر عمل کیا گیا؟

سینیٹر افنان اللہ خان نے بھی نشاندہی کی کہ تین سال گزرنے کے باوجود رقم واپس نہیں کی گئی۔ کمیٹی نے وزارت خارجہ کو ایچ ای سی کی رقم واپس کرنے کے لیے تین ماہ کی مہلت دے دی۔

بلغاریہ میں 2 کروڑ 90 لاکھ روپے کی ریکوری کا معاملہ :

صوفیہ، بلغاریہ میں پاکستانی سفارت خانے کے اکاؤنٹنٹ سے 2 کروڑ 90 لاکھ روپے کی ریکوری نہ ہونے سے متعلق آڈٹ اعتراض بھی کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا، تاہم کمیٹی نے اس معاملے کو آئندہ اجلاس تک موخر کردیا۔

ابوظہبی کمیونٹی اسکول کے اخراجات پر بھی سوالات :

ابوظہبی میں پاکستانی کمیونٹی اسکول پر خلافِ ضابطہ اخراجات سے متعلق آڈٹ اعتراض کا جائزہ لیتے ہوئے چیئرمین کمیٹی نے اسکول کی ملکیت کے بارے میں سوال کیا ، وزارت خارجہ کے حکام اسکول کی ملکیت سے متعلق کمیٹی کو اطمینان بخش جواب نہ دے سکے۔

رکن کمیٹی شازیہ مری نے کہا کہ یہ پاکستان کا پیسہ ہے اور اس معاملے میں مثال قائم ہونی چاہیے ، سیکرٹری خارجہ نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ رقم چاہے ایک ڈالر ہو یا ایک یورو، اس کی اہمیت ہے۔

اجلاس میں پی اے سی نے بیرونِ ملک پاکستانی سفارت خانوں میں مالی بے ضابطگیوں کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے رقوم کی واپسی، تحقیقات میں پیش رفت اور ذمہ داروں کے تعین پر زور دیا، کمیٹی نے واضح کیا کہ قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کے معاملات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور ذمہ داروں کے خلاف مؤثر کارروائی یقینی بنائی جائے۔