اسلام آباد (کیپیٹل نیوز پوائنٹ) وفاقی وزیر توانائی (پاور ڈویژن) سردار اویس احمد خان لغاری سے وزیرِ مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر شزرہ منصب نے پاور ڈویژن میں ملاقات کی ، ملاقات میں ملک میں ماحول دوست توانائی کے فروغ، گرین انرجی ٹرانزیشن اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی حکمتِ عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر سردار اویس احمد خان لغاری نے توانائی کے شعبے میں جاری انقلابی اصلاحات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے مجموعی انرجی مکس میں صاف اور ماحول دوست توانائی کا تناسب اس وقت 52 فیصد تک پہنچ چکا ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ سال 2036 تک اسے تقریباً 90 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں عوامی سطح پر سولرائزیشن کا عمل عوامی تحریک اور انقلاب کی شکل اختیار کر چکا ہے جہاں گھریلو، زرعی اور تجارتی صارفین شمسی توانائی اپنا رہے ہیں، جو صاف توانائی کی منتقلی اور بجلی کے نظام میں خود کفالت کی طرف ایک بڑا سنگ میل ہے ،سردار اویس احمد خان لغاری نے مزید آگاہ کیا کہ حکومت توانائی کی لاگت اور درآمدی بوجھ میں کمی کے لیے درآمدی کوئلے پر چلنے والے پاور پلانٹس کو مقامی کوئلے پر منتقل کرنے کے منصوبے پر تیزی سے پیش رفت کر رہی ہے ، اس اقدام سے درآمدی ایندھن پر خرچ ہونے والے قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔
وزیرِ مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر شزرہ منصب نے انرجی مکس میں کلین انرجی کے اضافے، عوامی سطح پر سولر انرجی کے رجحان اور پاور سیکٹر کی گرین پالیسیوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی خطرات کے دہانے پر کھڑا ہے اس لیے درآمدی فوسل فیولز پر انحصار ختم کرنا اور قابلِ تجدید توانائی کو مرکزی دھارے میں لانا قومی ترجیح ہونی چاہیے۔
انہوں نے یقین دلایا کہ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کاربن کے اخراج میں کمی اور ماحولیاتی اہداف کے حصول کے لیے پاور ڈویژن کے ساتھ قریبی رابطے میں رہے گی ، ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے اس بات پر مکمل اتفاق کیا کہ دونوں وزارتیں باہمی رابطوں کو مزید مستحکم بنائیں گی تاکہ ملک کو سستی، پائیدار اور ماحول دوست توانائی کی راہ پر تیزی سے گامزن کیا جا سکے۔

