واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی خواتین امیدواروں نے تاریخ رقم کردی، انتخابی نتائج کے مطابق پہلی مرتبہ 100 سے زائد ڈیموکریٹ خواتین بیک وقت امریکی ایوانِ نمائندگان کا حصہ بننے جا رہی ہیں، جسے امریکی سیاست میں خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔
نیو میکسیکو سے تعلق رکھنے والی رکن کانگریس اور ڈیموکریٹک ویمنز کاکس کی سربراہ ٹریسا لیگر فرنانڈیز نے اس تاریخی کامیابی پر اپنے بیان میں کہا کہ خواتین نے اپنے ووٹ کی طاقت سے تاریخ رقم کی ہے ، ان کے مطابق 100 سے زائد ڈیموکریٹ خواتین کا ایوانِ نمائندگان میں منتخب ہونا سیاسی منظرنامے میں اہم تبدیلی کی علامت ہے۔
ٹریسا لیگر فرنانڈیز کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں اور ریپبلکن پارٹی کے انتہا پسندانہ ایجنڈے کے اثرات خواتین نے سب سے زیادہ محسوس کیے، جس کے نتیجے میں انہوں نے حالیہ انتخابات میں اپنے ووٹ کے ذریعے واضح پیغام دیا۔ ان کے بقول خواتین ووٹرز کی ناراضی نے انتخابی نتائج پر نمایاں اثر ڈالا۔
ڈیموکریٹک ویمنز کاکس کے انتخابی ونگ ’الیکٹ ڈیموکریٹک ویمن‘ نے انتخابی مہم کے آغاز سے ہی ایوانِ نمائندگان میں 100 خواتین کی کامیابی کو ہدف بنایا تھا۔ فلوریڈا سے رکن کانگریس اور تنظیم کی بانی رکن لوئس فرینکل نے کہا کہ 100 خواتین کا ایوان میں پہنچنا ایک بڑی علامتی کامیابی ہے، تاہم جماعت کی کوشش اس سے بھی زیادہ خواتین کو کامیاب کرانے کی تھی۔
اس کامیابی کے پیچھے کئی دہائیوں کی سیاسی جدوجہد، خواتین امیدواروں کی تربیت، انتخابی مہمات اور فنڈز جمع کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔ خواتین کی سیاسی نمائندگی بڑھانے کے لیے ایملی لسٹ سمیت مختلف تنظیموں نے بھی اہم کردار ادا کیا ، ایملی لسٹ کی صدر جیسیکا میکلر نے کہا کہ حالیہ نتائج اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ اگر خواتین کو مناسب مواقع اور وسائل فراہم کیے جائیں تو وہ کامیاب انتخابی مہمات چلانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔
انتخابی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس کی جانب سے حاصل کی گئی 40 نشستوں میں سے 18 پر خواتین امیدوار کامیاب ہوئیں ، مہنگائی، اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں اور بدعنوانی کے تاثر پر ووٹرز کی ناراضی بھی ڈیموکریٹک امیدواروں کی کامیابی میں اہم عوامل سمجھے جارہے ہیں۔
کئی خواتین امیدواروں نے اپنی ہی جماعت کے موجودہ ارکان کو شکست دے کر نمایاں کامیابی حاصل کی۔ جارجیا کی جیسمین کلارک، کولوراڈو کی میلات کیروس اور نیویارک کی داریا لیزا اویلا شیوالیے ان امیدواروں میں شامل ہیں ، جیسمین کلارک کانگریس میں پہلی سیاہ فام خاتون پی ایچ ڈی سائنس دان ہوں گی، جبکہ میلات کیروس کولوراڈو کی نمائندگی کرنے والی پہلی سیاہ فام خاتون اور کانگریس کی پہلی جنریشن زی خاتون رکن بنیں گی۔
واضح رہے کہ خواتین امریکی آبادی کا تقریباً نصف حصہ ہیں، تاہم کانگریس میں ان کی نمائندگی اب بھی تقریباً 28 فیصد تک محدود ہے ، 1917 میں جینیٹ رینکن امریکی کانگریس کی پہلی خاتون رکن منتخب ہوئی تھیں، جس کے بعد خواتین نے سیاسی نمائندگی اور مساوی حقوق کے حصول کے لیے طویل جدوجہد کی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایوانِ نمائندگان میں 100 سے زائد ڈیموکریٹ خواتین کی کامیابی امریکی سیاست میں خواتین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی عکاسی کرتی ہے ، یہ پیش رفت مستقبل میں خواتین کی اعلیٰ سیاسی قیادت میں شمولیت کے لیے بھی نئے امکانات پیدا کرسکتی ہے۔

