کراچی (کیپیٹل نیوز پوائنٹ) امیر سیاسی پارٹی جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ بلدیاتی حکومت کے تحت تعلیم سمیت تمام نظام چلتے ہیں لیکن بلدیاتی ادارے صوبائی حکومتوں کے رحم و کرم پر ہیں، کراچی کو پوری طاقت کے ساتھ اپنے شہر کے لیے آواز اٹھانی پڑے گی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اسلام آباد میں پانچویں مرتبہ بلدیاتی انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہوا، پنجاب میں بلدیاتی انتخابات ہی نہیں ہوئے، سسٹم کے خلاف باتیں کرنے والے بھی اسی سسٹم کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں اور وہ ان تمام معاملات کے ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 2005 سے اب تک کے فور منصوبہ نہیں بننے دیا گیا، اگر یہ منصوبہ بروقت مکمل ہو جاتا تو گھروں کے نلکوں میں پانی آتا، بلاول کے گھر میں بھی پانی ٹینکر کے ذریعے آتا ہے، پھر بلاول 18 سال سے کیا کر رہے ہیں؟ آگمینٹیشن کے نام پر سڑکیں کھود دی جائیں گی، پانی کا نظام خراب جبکہ ٹینکر کا نظام اچھا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ سیوریج کا ایس تھری منصوبہ 12 سال سے مکمل نہیں ہوا، گرین لائن منصوبہ 2016 میں شروع ہوا لیکن اب تک مکمل نہیں ہو سکا، ریڈ لائن نے مرکزی شاہراہ کا برا حال کر دیا ہے، سرکلر ریلوے کے آٹھ افتتاح ہو چکے ہیں لیکن منصوبہ تاحال فعال نہیں ہو سکا۔
امیر سیاسی پارٹی جماعت اسلامی نے کہا کہ بلاول نے گزشتہ دنوں سفیروں کو بلا کر ایک پریزنٹیشن دی تھی، سمجھ سے بالاتر ہے کہ انہیں کیا بتایا گیا، چند اداروں کے سوا جنہیں این جی اوز کے حوالے کیا گیا، کراچی کا برا حال ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں 41 ہزار سکولز ہیں جبکہ کراچی میں ساڑھے 3 ہزار سکولز ہیں، تمام سکولز صوبائی حکومت کے پاس ہیں، نعمت اللہ خان کے دور میں یہ سکولز ان کے پاس تھے اور اس وقت ان میں بہترین کام ہوا تھا، اب چند سکولز ٹاؤنز کے پاس رہ گئے ہیں، ڈسپنسریز کی تعداد بھی محدود ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ متوسط طبقے کے لوگ پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کو اچھے تعلیمی اداروں میں پڑھانے کی کوشش کرتے ہیں، کراچی کو صوبے سے پیسے نہیں ملتے، گزشتہ 15 سال میں کراچی کو صوبائی حکومت سے 3 ہزار 360 ارب روپے ملنے چاہیئں تھے ، امیر سیاسی پارٹی جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ صوبے میں آنے والے پیسوں کا 76 فیصد کراچی کو ملنا چاہیے تھا لیکن اب یہ شرح 76 سے کم ہو کر 18 فیصد رہ گئی ہے .
انہوں نے مزید کہا کہ ٹاؤنز کو ملنے والے حصے کا 92 فیصد تنخواہوں میں چلا جاتا ہے، کوئی وزیراعظم کراچی آنے کی زحمت نہیں کرتا، شیخ رشید نے سرکلر ریلوے کا افتتاح کیا تھا لیکن وہ آج تک نہیں چلی، اب ہمیں اندازہ ہو گیا ہے کہ مینڈیٹ چوری نہیں ہونے دینا ، حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ دعا کریں پٹرول کے معاملے پر تصادم کے بغیر مسئلہ حل ہو، اگر حکومت نے ہٹ دھرمی دکھائی تو ہم سڑکوں پر ایگریمنٹ کرائیں گے۔

