اسلام آباد (سٔپیشل رپورٹر) فیڈرل ٹیکس محتسب (FTO) سیکرٹریٹ اسلام آباد نے قرار دیا ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 175C کے تحت کارروائی کے دوران ٹیکس دہندگان سے قانونی طریقۂ کار کے بغیر رقوم وصول کرنا اور بعد ازاں ان کی باقاعدہ اسیسمنٹ نہ کرنا بدانتظامی (Maladministration) کے زمرے میں آتا ہے۔ محتسب نے اس طرزِ عمل کو قانونی تقاضوں اور منصفانہ انتظامی اصولوں کے منافی قرار دیتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کو انکوائری کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
یہ معاملہ نور سرجیکل ہسپتال، ایبٹ آباد کے مالک کی شکایت پر سامنے آیا، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ ان لینڈ ریونیو کے اہلکاروں نے ہسپتال کے دورے کے دوران سیکشن 175C کے تحت کارروائی شروع کی اور قانونی اسیسمنٹ یا فیصلہ جاری کیے بغیر دباؤ کے تحت خطیر رقم وصول کی گئی۔
ایف بی آر نے مؤقف اختیار کیا کہ کارروائی قانون کے مطابق کی گئی اور وصول کی گئی رقم ٹیکس دہندہ کی جانب سے رضاکارانہ طور پر جمع کرائی گئی۔ تاہم فیڈرل ٹیکس محتسب کے سامنے کوئی تحریری اسیسمنٹ آرڈر یا اسپیکنگ آرڈر پیش نہیں کیا جا سکا جس سے ٹیکس واجبات کی قانونی بنیاد واضح ہوتی۔
محتسب نے ریکارڈ کے جائزے کے بعد قرار دیا کہ سیکشن 175C بنیادی طور پر ایک تفتیشی شق ہے جو معلومات کے حصول اور انکوائری تک محدود ہے، جبکہ اس کے تحت باقاعدہ اسیسمنٹ کے بغیر ٹیکس وصولی قانونی اختیار نہیں رکھتی۔ مزید یہ کہ کارروائی کے بعد کوئی تحریری اور وجوہات پر مبنی فیصلہ جاری نہ کرنا قانون کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
فیصلے میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ انکوائری کے دوران “رضاکارانہ ڈپازٹس” کی وصولی شفافیت اور مساوی انتظامی اصولوں پر سوال اٹھاتی ہے، اور ایسی رقوم قانونی ٹیکس اسیسمنٹ کا متبادل نہیں بن سکتیں۔
فیڈرل ٹیکس محتسب نے قرار دیا کہ متعلقہ محکمہ کی کارروائی اسٹیبلشمنٹ آف دی آفس آف فیڈرل ٹیکس محتسب آرڈیننس 2000 کے تحت بدانتظامی کے زمرے میں آتی ہے۔ ساتھ ہی ایف بی آر کو 45 روز کے اندر عملدرآمد رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
محتسب نے سفارش کی ہے کہ معاملے کی تفصیلی انکوائری کی جائے، اگر کسی افسر کی جانب سے اختیارات کے غلط استعمال کا تعین ہوتا ہے تو ذمہ داری طے کی جائے، اور مستقبل میں ایسی کارروائیوں کے دوران واضح انتظامی ہدایات جاری کی جائیں تاکہ قانونی تقاضوں اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

