Quaid-e-Azam-International-Hospital-Islamabad-Rawalpindi-Capitalnewspoint.com

غیر قانونی گردہ ٹرانسپلانٹ کیس، قائداعظم انٹرنیشنل ہسپتال کے ڈاکٹر نادر سمیت دو مرکزی ملزمان کی ضمانت منظور

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر)ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ قائد اعظم انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آ باد میں مبینہ غیر قانونی گردہ ٹرانسپلانٹ کیس میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے قائداعظم ہسپتال سے وابستہ ڈاکٹر نادر سمیت دو مرکزی ملزمان کی ضمانت منظور کر لی, عدالت نے دونوں ملزمان کو ایک، ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا, سول جج احمد شہزاد گوندل نے کیس کی سماعت کے دوران ملزمان کی جانب سے دائر ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ سنایا، جبکہ سماعت کے دوران وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور ملزمان کے وکیل کے درمیان تفصیلی اور سخت جرح ہوئی۔

ایف آئی اے نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان سے مزید تفتیش درکار ہے، اس لیے انہیں ضمانت پر رہا نہیں کیا جانا چاہیے, پراسیکیوشن نے بھی عدالت کو آگاہ کیا کہ دورانِ تفتیش ملزمان کی رہائی تحقیقات پر اثرانداز ہو سکتی ہے اور شواہد متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے, تاہم عدالت نے ایف آئی اے اور پراسیکیوشن کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے دونوں ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں منظور کر لیں اور انہیں مقررہ مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

ایف آئی اے کے مطابق مقدمہ قائداعظم ہسپتال میں مبینہ غیر قانونی گردہ ٹرانسپلانٹ اور انسانی اعضا کی غیر قانونی پیوندکاری کے الزامات کے تحت درج کیا گیا تھا، جس میں متعدد افراد کو نامزد کیا گیا ہے, کیس میں یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ جن ملزمان کو ضمانت ملی ہے انہیں مبینہ نیٹ ورک کے اہم کردار قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ مقدمے کے دیگر شریک ملزمان تاحال جیل میں موجود ہیں۔

ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ شریک ملزمان کی ضمانتیں پہلے ہی مسترد ہو چکی ہیں اور مرکزی ملزمان سے مزید تحقیقات ابھی باقی ہیں, عدالتی فیصلے کے بعد کیس نے ایک نئی قانونی بحث کو جنم دے دیا ہے، کیونکہ ایک جانب مبینہ مرکزی ملزمان کو ضمانت پر رہائی مل گئی ہے جبکہ دوسری جانب غریب ڈونرز اور دیگر شریک ملزمان بدستور جیل میں ہیں۔ کیس کی مزید سماعت اور تحقیقات آئندہ مراحل میں جاری رہیں گی۔