قرضوں کے بجائے برآمدات سے ہی ترقی ممکن ہے. احسن اقبال

نارووال (بیورو رپورٹ) وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ قرضوں کے سہارے نہیں، برآمدات بڑھا کر ہی ترقی ممکن ہے، نارووال میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ ٹیکنالوجی( یو ای ٹی) سب کیمپس کے کلچرل گالا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مستقبل علم، تحقیق اور جدت کی پیداوار سے وابستہ ہے، ہمیں دوسروں کے علم کے صارف نہیں بلکہ علم اور ٹیکنالوجی کے تخلیق کار بننا ہوگا۔

اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کو علم اور ٹیکنالوجی کے میدان میں قیادت کے مقام پر لانا چاہتے ہیں، ترقی یافتہ قوموں نے انسانی وسائل میں سرمایہ کاری کرکے کامیابی حاصل کی، وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سیاسی عدم استحکام کے باعث قومی ترقی کے کئی اہم منصوبے مکمل نہ ہو سکے، ویژن 2010 اور 2025 مکمل ہوتے تو آج پاکستان کی صورتحال مختلف ہوتی۔

احسن اقبال نے کہا کہ ویژن 2025 کا تسلسل برقرار رہتا تو پاکستان دنیا کی صف اول کی معیشتوں میں شامل ہوتا، اڑان پاکستان کے تحت ترقی کا نیا سفر شروع کیا گیا ہے، اُنہوں نے کہا کہ امن، استحکام اور اصلاحات کے تسلسل سے پاکستان آئندہ 5 سے 10 سال میں تیز رفتار معیشت بن سکتا ہے، پاکستانی قوم اور اس کے انجینئرز صلاحیت کے اعتبار سے کسی سے کم نہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ قرضوں کے سہارے نہیں، برآمدات بڑھا کر ہی ترقی ممکن ہے، پاکستان کو ایکسپورٹ لیڈ گروتھ اکانومی بنانا ہماری قومی ترجیح ہے، احسن اقبال نے کہا کہ دنیا بھر میں پاکستانی مصنوعات کو معیار اور اعتماد کی علامت بنانا ہوگا، انجینئرز تحقیق اور جدت کے ذریعے پاکستانی مصنوعات کو عالمی سطح پر نمایاں کریں۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ قومی سلامتی، توانائی، پانی اور زرعی پیداوار کے چیلنجز کا حل انجینئرنگ میں موجود ہے، آلودگی، شہری آبادی کے دباؤ اور دیگر بحرانوں سے نمٹنے میں انجینئرز کا کردار کلیدی ہے، ہر بڑے قومی بحران کے حل کی کنجی اُن کے ہاتھوں میں ہے۔