مظفرآباد (بیورو رپورٹ) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف کی زیرِ صدارت آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر اور پارٹی کی مرکزی قیادت نے شرکت کی، اجلاس میں آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال، عوامی مسائل، امن و امان اور آئندہ سیاسی حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا, اجلاس کے دوران حالیہ واقعات میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار بھی کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) مسئلہ کشمیر پر ہمیشہ واضح اور دوٹوک مؤقف رکھتی ہے, انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت ملنا چاہیے اور پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کی جائز جدوجہد کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کی ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ہر دور میں آزاد کشمیر کے عوام کے آئینی حقوق، ترقی اور خوشحالی کو ترجیح دی۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے عوام کو عبوری آئین 1974 کے تحت مکمل شہری آزادیاں حاصل ہیں اور عوامی حقوق کے لیے آئینی اور جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے جدوجہد کی جانی چاہیے، مسلم لیگ (ن) کے صدر نے کہا کہ کشمیریوں نے پاکستان کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں اور ان قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کشمیری عوام پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے نظریاتی اور فکری رشتے کو برقرار رکھتے ہوئے پُرامن رہیں۔
نواز شریف نے تمام فریقین سے اپیل کی کہ دھرنوں اور احتجاجی سرگرمیوں کے خاتمے کے بعد بامقصد مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے تاکہ مسائل کا حل افہام و تفہیم کے ذریعے نکالا جا سکے، انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں امن کی بحالی، سیاسی استحکام اور انتخابی عمل کے فروغ کے لیے تمام جمہوری قوتوں کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں بھائی چارے، ہم آہنگی اور رواداری کے فروغ کی ضرورت ہے اور مسلم لیگ (ن) تمام جمہوری قوتوں کے ساتھ مل کر مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتی رہے گی، اجلاس کے دوران نواز شریف نے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں پارٹی کی انتخابی مہم کو منظم اور مؤثر بنانے پر وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام کی خدمات کو بھی سراہا اور ان کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

