اسلام آباد (سپیشل رپورٹر)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینر سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں نان کسٹم پیڈ سگریٹ کی مبینہ اسمگلنگ، 11 ٹرکوں کی ضبطگی، مختلف سرکاری اداروں کی کارروائیوں اور میڈیا رپورٹس سے متعلق تفصیلی غور کیا گیا ، اجلاس کے آغاز پر کنوینر سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے سیکرٹری داخلہ کی عدم حاضری پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری داخلہ کو ایسے اہم اجلاس میں خود شریک ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ نظام تباہ ہو چکا ہے، اس لیے ذمہ دار افسران کی موجودگی ضروری ہے ، اجلاس کے دوران کمیٹی کو بتایا گیا کہ 20 تاریخ کو متعلقہ اجلاس منعقد ہوا جبکہ 21 تاریخ کو ایک ہینڈ آؤٹ جاری کیا گیا ، سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ موٹروے پولیس نے 11 ٹرک پکڑے، لیکن بعد میں مختلف بیانات اور میڈیا رپورٹس سامنے آئیں جن سے کئی سوالات پیدا ہوئے۔
کمیٹی کے اجلاس میں اسکرین پر اے بی این نیوز کی نان کسٹم پیڈ سگریٹ سے متعلق نشر ہونے والی خبر کی ویڈیو بھی چلائی گئی جبکہ ایک پریس ریلیز بھی پیش کی گئی۔ اس پر کنوینر نے استفسار کیا کہ یہ پریس ریلیز کس ادارے کی ہے، جس پر کسٹمز حکام نے واضح کیا کہ یہ ان کی جاری کردہ پریس ریلیز نہیں ہے ، کمیٹی نے معاملے کی مزید تحقیقات کے لیے موٹروے پولیس حکام کو بھی طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ کسی بھی شخص یا ادارے کو بلا تصدیق متنازع بنانا مناسب نہیں اور اگر 22 کروڑ روپے یا اس سے زائد مالیت کی اسمگلنگ پکڑی گئی ہے تو متعلقہ ادارہ اس کی ذمہ داری قبول کرے ،اجلاس میں سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ بغیر تصدیق کسی فرد یا کمپنی کا نام میڈیا پر چلانا نامناسب ہے اور اس سے لوگوں کی عزت مجروح ہوتی ہے ، انہوں نے سوال اٹھایا کہ موٹروے پولیس کو کس بنیاد پر معلوم ہوا کہ کون سی کمپنی کا سامان ہے، جبکہ ٹرکوں کی اصل ملکیت بھی واضح نہیں کی گئی۔
کسٹمز حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ٹرک چکری سے اٹک کے درمیان مختلف مقامات سے پکڑے گئے اور ابتدائی تحقیقات کے مطابق ان میں استعمال ہونے والا خام مال اسمگل شدہ معلوم ہوتا ہے ، تاہم حکام نے یہ بھی کہا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ سگریٹ پاکستان میں تیار کیے گئے یا افغانستان سے اسمگل ہو کر آئے، اس لیے تحقیقات جاری ہیں۔
کسٹمز حکام نے مزید بتایا کہ ان کی ایف آئی آر میں کسی مخصوص کمپنی یا شخصیت کا ذکر موجود نہیں جبکہ ان کی پریس ریلیز میں بھی وہ دعوے شامل نہیں جو بعد میں میڈیا پر سامنے آئے ، حکام کے مطابق ان کی ایف آئی آر کے مطابق ضبط شدہ سامان کی مالیت تقریباً 40 کروڑ روپے بنتی ہے ، کمیٹی نے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کو بھی تحقیقات میں شامل کیا جائے اور اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔ سینیٹر طلحہ محمود نے مزید ایک ایف آئی آر درج کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی نے بغیر ثبوت الزامات لگائے ہیں تو اس کی قانونی ذمہ داری بھی طے ہونی چاہیے.
سینیٹر دلاور خان نے اجلاس میں کہا کہ ایف آئی آر انہوں نے درج نہیں کروائی بلکہ یہ کارروائی متعلقہ اداروں نے کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان کا نام اس معاملے میں کیوں شامل کیا گیا جبکہ انہوں نے خود کو ملک کے بڑے ٹیکس دہندگان میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ تمباکو کاشت کرنے والے نو اضلاع کے کسان شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
کنوینر سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ہدایت کی کہ ایک جامع رپورٹ تیار کی جائے جس میں واضح کیا جائے کہ ضبط شدہ سگریٹ کس کے ہیں، کس کمپنی سے ان کا تعلق ہے اور تحقیقات میں کیا پیش رفت ہوئی ہے ، اجلاس کے دوران ایف بی آر حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ میڈیا رپورٹس کا ایف بی آر سے کوئی تعلق نہیں اور متعلقہ بیان بھی ایف بی آر نے جاری نہیں کیا ، ان کا کہنا تھا کہ پہلی خبر موٹروے پولیس کی جانب سے سامنے آئی جبکہ کسٹمز نے بعد ازاں اپنی قانونی کارروائی کی۔
چیف کمشنر آر ٹی او پشاور نے کمیٹی کو بتایا کہ کنزمپشن سرٹیفکیٹس کا اجرا 2023 سے شروع ہوا۔ اس پر کنوینر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ اگر آج بھی کنزمپشن سرٹیفکیٹ کا نظام دستی طریقے سے چل رہا ہے تو یہ تشویشناک صورتحال ہے ، سینیٹر طلحہ محمود نے اجلاس میں کہا کہ بڑے بڑے کاروباری گروپ پاکستان چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں اور کاروباری طبقہ خوف کا شکار ہے ، ان کے مطابق دنیا بھر میں سرمایہ کاروں اور ٹیکس دہندگان کو عزت دی جاتی ہے، اس لیے تحقیقات حقائق کی بنیاد پر ہونی چاہئیں نہ کہ بغیر تصدیق الزامات کی بنیاد پر .
اجلاس کے اختتام پر کمیٹی نے وزارت اطلاعات اور وزارت داخلہ کے حکام کو ہدایت کی کہ معاملے پر متعلقہ میڈیا ادارے کو خط لکھا جائے ، اجلاس میں سینیٹر طلحہ محمود نے پیکا ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کی تجویز بھی دی جبکہ سینیٹر دلاور خان نے اس معاملے پر تحریک استحقاق لانے کا اعلان کیا ، کمیٹی نے متعلقہ اداروں سے آئندہ اجلاس میں مکمل تحقیقاتی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام حقائق، ذمہ داران اور ضبط شدہ سامان کی مکمل تفصیلات پیش کی جائیں تاکہ معاملے کا شفاف انداز میں جائزہ لیا جا سکے۔

