آزاد کشمیر حکومت کی احتجاج ختم کرکے مذاکرات کی اپیل، 35 مطالبات تسلیم ہونے کا دعویٰ

اسلام آباد (ویب ڈیسک) آ زاد جموں و کشمیر کے وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید اور وزیر اطلاعات چوہدری رفیق نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے موجودہ صورتحال پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا اور احتجاج کرنے والوں سے مذاکرات کی میز پر آنے کی اپیل کی۔

وزیر اطلاعات چوہدری رفیق نے کہا کہ 12 مہاجر نشستوں کے معاملے پر احتجاج کیا گیا اور پیپلز پارٹی نے اس حوالے سے اپنا مؤقف پیش کیا تھا، تاہم نمبر گیم کی وجہ سے آئینی ترمیم ممکن نہ ہو سکی، انہوں نے کہا کہ حکومت نے کمیٹی کے تقریباً تمام مطالبات تسلیم کر لیے تھے اور تمام مسائل کا حل بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک مشکوک قتل کے بعد فورسز کے چار اہلکار شہید کیے گئے، جو افسوسناک واقعہ ہے، ان کے مطابق آزاد کشمیر کے معاملات پر تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ خطے میں امن و استحکام برقرار رہے۔

اس موقع پر وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے کہا کہ آزاد کشمیر میں قیامِ امن کے لیے وزیر اعظم نے بھرپور کوششیں کیں، تاہم ایکشن کمیٹی احتجاج جاری رکھنے پر بضد ہے، انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کے باعث آزاد کشمیر کو اربوں روپے کا معاشی نقصان ہو رہا ہے جبکہ سیاحتی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔

چوہدری قاسم مجید نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر میں گندم اور بجلی سبسڈی کے ساتھ فراہم کی جا رہی ہیں اور حکومت عوام کو تمام ممکنہ سہولیات دینے کے لیے تیار ہے، انہوں نے اعلان کیا کہ 29 جون کو آزاد جموں و کشمیر کا بجٹ پیش کیا جائے گا۔

وزیر خزانہ نے دعویٰ کیا کہ 38 مطالبات میں سے 35 مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں، جبکہ 12 مہاجر نشستوں کے معاملے پر بھی مذاکرات جاری تھے، انہوں نے کہا کہ بعض عناصر مہاجر نشستوں کے حلف سے الحاقِ پاکستان کی شق ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جو ناقابلِ قبول ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور پاک فوج کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ان کے مطابق پاک فوج اور قومی اداروں کے خلاف مہم چلانے والوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

چوہدری قاسم مجید نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں بھارت منفی پروپیگنڈا کر رہا ہے، اس لیے قومی یکجہتی کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے، انہوں نے احتجاج کرنے والوں سے اپیل کی کہ محرم الحرام کے احترام میں احتجاج ختم کرکے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں، انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر میں خوراک کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے اور 27 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں عوام اپنی رائے کا اظہار کر سکتے ہیں۔