اسلام آباد (احسان بخاری / سپیشل رپورٹر) ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد میں غیر قانونی گردوں کی پیوند کاری کے نیٹ ورک کے مرکزی ملزم ڈاکٹر شوکت بنگش کو عدالت پیش کر کے تین روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ، ایف آئی اے نے قائداعظم انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد کے سی ای او اور مالک ڈاکٹر شوکت بنگش کو گزشتہ روز عدالت سے درخواست ضمانت کینسل ہونے پر ڈرامائی انداز میں گرفتار کر لیا ملزم ایف ائی اے کو جل دے کر فرار ہو نے کی کوشش میں مصروف تھا کہ ایف ائی اے نے گرفتار کیا تھا.
ڈاکٹر شوکت بنگش کو ایف آئی آر نمبر 16/2026 میں نامزد ملزم کی حیثیت سے گرفتار کیا گیا ، ایف آئی اے کے مطابق ڈاکٹر شوکت بنگش پر غیر قانونی اور تجارتی بنیادوں پر گردوں کی پیوند کاری کی مبینہ سہولت کاری کا الزام ہے، قائداعظم انٹرنیشنل ہسپتال میں مبینہ غیر قانونی گردوں کی پیوند کاری کے نیٹ ورک کے خلاف تحقیقات کے بعد مقدمہ درج کیا گیا تھا.
ایف آئی اے کے مطابق ڈاکٹر شوکت بنگش نے ڈاکٹر نادر، عدیل شیرازی اور دیگر ملزمان کے ساتھ مبینہ طور پر غیر قانونی سرگرمیوں میں سہولت کاری کی
گردوں کی پیوند کاری کے سرجن ڈاکٹر نادر اور ٹرانسپلانٹ کوآرڈینیٹر عدیل شیرازی سمیت 6 ملزمان پہلے ہی گرفتارہو چکے ہیں ملزم اس نیٹ ورک کا سربراہ تھا کیا ہو رہا ہے .
گرفتار ملزمان اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے ان کی بعد از گرفتاری ضمانتیں مسترد کر دی تھیں ، ڈاکٹر شوکت بنگش کو مزید تفتیش کے لیے متعلقہ عدالت میں پیش کر دیا ایف ائی اے نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ملزم سے اس نیٹ کے حوالے سے مزید تفتیش کرنی ہے اور دیگر ملزمان جو اس گروہ کا حصہ ہیں کی گرفتاری بھی ضروری ہے.
جس پر عدالت نے ڈاکٹر شوکت بنگش کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف ائی اے کے حوالے کر دیا ، ایف آئی اے حکام کے مطابق تحقیقات کے دوران ہسپتال کے عملے اور نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کے کردار کا بھی تعین کیا جائے گا ، ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ملزم سے دیگر مبینہ ساتھیوں اور غیر قانونی نیٹ ورک سے متعلق مزید اہم معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے.

