یومِ بحریہ پر وزیراعظم شہباز شریف کا پاک بحریہ کے شہداء، غازیوں اور اہلکاروں کو خراجِ عقیدت

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے یوم بحریہ پاکستان 8 ستمبر 2026 کے موقع پر پیغام میں کہا کہ میں پاک بحریہ کے افسران، جوانوں، اور اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کو دِلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

وزیراعظم محمد شہبازشریف نے نے کہا کہ آج کے اس تاریخی دن ہم پاک بحریہ کے شہداء، غازیوں، سابق اہلکاروں اور موجودہ افسران و جوانوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے وطنِ عزیز کے دفاع کے لئے اپنی بے مثال خدمات انجام دیں اور آج بھی جرأت، قربانی اور فرض شناسی کے جذبے کے ساتھ اپنا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔

محمد شہبازشریف نے کہا کہ 8 ستمبر 1965ء کی جنگ کے دوران پاک بحریہ کے عزم، شجاعت اور ثابت قدمی کی یاد تازہ کرنے والا ایک قابلِ فخر اور ولولہ انگیز دن ہے، اسی روز پاک بحریہ نے بھارتی بحری تنصیب دوارکا کے خلاف تاریخی آپریشن ’سومناتھ‘ کامیابی سے انجام دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک بڑی اور بھاری اسلحے سے لیس دشمن قوت کے مقابلے میں ہمارے بحری جہازوں نے انتہائی درستگی کے ساتھ کارروائی کرتے ہوئے دشمن کی اہم ساحلی تنصیبات کو تباہ کیا اور سمندر میں نفسیاتی برتری قائم کی، بحرِ ہند میں ہماری آبدوز ’غازی‘ کی موجودگی نے دشمن کی نقل و حرکت کو مزید مفلوج کر دیا اور بحری جنگ کی تاریخ میں ایک سنہرا باب رقم کیا۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ 2025ء کے معرکۂ حق کے دوران بھی پاک بحریہ نے اسی جذبے اور اعلیٰ عملی تیاری کا مظاہرہ کیا جس کے باعث عددی برتری رکھنے والا دشمن سمندر میں کسی بھی جارحانہ کارروائی سے باز رہا ، محمد شہبازشریف کا کہنا ہے کہ موجودہ تزویراتی منظرنامے میں پاک بحریہ کی ذمہ داریاں کئی گنا بڑھ گئی ہیں، پاک بحریہ ہماری بین الاقوامی بحری مواصلاتی گزرگاہوں اور تجارت کے لئے اہم بحری راستوں کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کہ آبنائے ہرمز پر حالیہ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بحری سرگرمیوں میں مشکلات کے تناظر میں پاک بحریہ نے ایک بار پھر اپنے عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے علاقائی سلامتی کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کے باوجود پاکستانی پرچم بردار تجارتی جہازوں، بالخصوص پٹرولیم مصنوعات لے جانے والے جہازوں، کی بلا تعطل آمدورفت کو یقینی بنایا۔

وزیراعظم نے کہا کہ روایتی سلامتی کے تقاضوں سے بڑھ کر پاک بحریہ دنیا بھر میں پاکستان کی مثبت اور پُرامن شناخت کے فروغ میں بھی فعال کردار ادا کر رہی ہے، اس کی ’امن‘ مشق اور ’امن ڈائیلاگ‘ جیسے اقدامات کا مقصد عالمی بحری برادری کو ’امن کے لیے متحد‘ کرنا ہے ، انہوں نے کہا کہ پاک بحریہ کو خطے میں عملی اور تکنیکی تعاون، بحری صنعتی روابط، باہمی تربیتی تبادلوں اور بحری سفارت کاری کے تناظر میں بھرپور خیرسگالی حاصل ہے۔

محمد شہبازشریف کا کہنا ہے کہ آج پاک بحریہ ہمارے سمندروں کی ایک مضبوط اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس محافظ قوت کے طور پر نمایاں ہے، جس نے اپنی قیادت کے تزویراتی وژن اور مقامی ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے وضع کئے گئے جدیدیت کے پروگرام کے تحت نمایاں ترقی حاصل کی ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ جدید ترین میلجم طرز کے کارویٹس، ہانگور کلاس آبدوز، مختلف نوعیت کے فضائی اثاثوں اور ملکی سطح پر تیار کئے گئے کروز اور بیلسٹک میزائلوں کی کامیاب شمولیت اس عزم کی عکاس ہے کہ ابھرتے ہوئے بحری چیلنجز سے مؤثر اور کارآمد انداز میں نمٹنے کے لیے پاک بحریہ کو جدید اور مخصوص صلاحیتوں سے لیس کیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ حکومت اور پاکستان کے عوام کو پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ صلاحیت، نظم و ضبط اور عملی تیاری پر مکمل اعتماد ہے، مجھے یقین ہے کہ پاک بحریہ اپنی شاندار روایات کو برقرار رکھتے ہوئے جرأت، عزت و وقار اور امتیاز کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیتی رہے گی۔