اسلام آباد(سٹاف رپورٹر )وفاقی وزیر برائے خزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ ملک کی معاشی ترقی میں تاجروں اورسرمایہ کاروں کا کردارکلیدی اہمیت کا حامل ہے، ٹیکس اصلاحات میں تاجروں اورسرمایہ کاروں کی مشاورت شامل ہو گی، آئندہ سال کا بجٹ ٹیکس پالیسی آفس بنائے گا۔ بدھ کوکراچی چیمبرآف کا مرس اینڈانڈسٹریز میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ملک کی معاشی ترقی میں تاجروں اورسرمایہ کاروں کا کردارکلیدی اہمیت کا حامل ہے،ہمیں ریونیواوراخراجات کوساتھ لےکرچلناہوگا، ٹیکس اصلاحات میں تاجروں اورسرمایہ کاروں کی مشاورت شامل ہو گی۔
انہوں نے کہاکہ ٹیکس پالیسی آفس کوایف بی آرسے وزارت خزانہ منتقل کیاگیا ہے، آئندہ سال کا بجٹ ٹیکس پالیسی آفس بنائے گا،اس کا بنیادی مقصد بجٹ کومعاشی ترجیحات کے مطابق بنانا ہے، اس ضمن میں ڈاکٹرنجیب اوران کی ٹیم مشاورت کےلئے دستیاب ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بزنس کمیونٹی کے ساتھ میٹنگ کے بعد8گروپس بنائے ہیں، تمام گروپس کے چیئرمین اورممبران نجی شعبے سے ہیں اوران میں کوئی وزیرنہیں ، وزیراعظم نے 15نومبرتک سفارشات اورتجاویز جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نجی شعبے کی قیادت میں اقتصادی ترقی اورنموپریقین رکھتے ہیں، معاشی استحکام سے ہمیں بہت فائدہ ہواہے،پاکستان نے 500ملین ڈالر کے یورو بانڈزکی بروقت ادائیگی کی ہے۔انہوں نے کہاکہ ملکی وسائل کوبروئے کا رلانا ہماری ترجیح ہے، سیلاب کے بعدہم نے اپنے وسائل سے بحالی اورتعمیرنوکافیصلہ کیا اوریہ اس لئے ممکن ہواکیونکہ پاکستان معاشی طورپرمستحکم ہواہے۔وزیرخزانہ نے کہاکہ پائیدارنموکےلئے ہمیں برآمدات میں اضافہ کرنا ہوگا، برآمدات میں اضافے کےلئے ہریونٹ کواپناکردارادا کرنا چا ہیے، آٹوسیکٹرکی برآمدات شروع ہوچکیں، حکومت صنعتی خام مال کے ٹیرف میں کمی لانے کےلئے اقدامات کررہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ جنوب مشرقی ایشیا کوبھی ماضی میں پاکستان جیسے مسائل کا سامناتھا تاہم ان ممالک نے اصلاحات کے ذریعے اپنی معیشتوں کومشکلات سے نکالا۔وزیرخزانہ نے کہاکہ اس بجٹ میں سابق فاٹا اورپاٹا کےلئے انکم ٹیکس کی چھوٹ جاری رکھی گئی ہے تاہم10فیصد کی شرح سے سیلزٹیکس عائد کیاگیاہے۔انہوں نے کہاکہ ٹیکسٹائل کا شعبہ ملکی برآمدات میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتاہے، حکومت ٹیکسٹائل کے فروغ کےلئے اپناکرداراداکرے گی۔
وزیرخزانہ نے کہاکہ ٹیکس پالیسی اور8خصوصی گروپوں میں چیمبرز کونمائندگی دی جائے گی،حکومت ڈی ریگولیشن پریقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ آبادی میں اضافہ اورموسمیاتی تبدیلیاں پاکستان کےلئے دوبنیادی وجودی مسائل ہیں، ان مسائل سے نمٹنے کےلئے اقدامات وقت کی ضرورت ہے، اس حوالے سے وفاق اورصوبوں کومل کراپناکرداراداکرنا ہوگا۔ایک سوال پرانہوں نے کہاکہ این ایف سی آئینی فورم ہے اور فورم سے متعلق امور وہیں طے ہوں گے۔

