صدر آصف علی زرداری نے 27 ویں آئینی ترمیمی بل پر دستخط کر دیے، بل اب آئین کا حصہ بن گیا

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)صدر آصف علی زرداری نے 27 ویں آئینی ترمیمی بل پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد یہ بل پاکستان کے آئین کا حصہ بن گیا ہے۔ یہ بل پہلے ہی قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں ایوانوں سے منظور ہو چکا تھا، جس میں سینیٹ نے دو تہائی اکثریت سے منظوری دی۔ سینیٹ اجلاس کی صدارت چیئرمین یوسف رضا گیلانی نے کی، اور وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ترمیم کے نئے متن کو شق وار منظوری کے لیے پیش کیا قومی اسمبلی نے بھی اس ترمیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کیا، جس میں حکومت کو درکار 224 ارکان کی بجائے 234 ارکان نے حمایت دی جبکہ جے یو آئی (ف) نے مخالفت میں ووٹ دیا۔

اس ترمیم میں آٹھ نئی شقیں شامل کی گئی ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ حکومت نے آرٹیکل 6 کی شق 2 میں تبدیلی کی ہے تاکہ یہ واضح ہو کہ سنگین غداری کا کوئی بھی عمل کسی عدالت کے ذریعے جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ شق 2 میں “آئینی عدالت” کے الفاظ بھی شامل کیے گئے ہیں تاکہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے ساتھ اس عدالت کا بھی ذکر ہو۔

ترمیم کے مطابق موجودہ چیف جسٹس اپنی مدت پوری ہونے تک “چیف جسٹس آف پاکستان” کے عہدے پر فائز رہیں گے، جس کے بعد یہ عہدہ سپریم کورٹ یا وفاقی آئینی عدالت کے سینئر ترین جج کو دیا جائے گا وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے، جس میں آئینی ترمیم کے مطابق متعلقہ قوانین میں تبدیلیوں کی منظوری دی جائے گی۔