نیشنل پریس کلب میں ہنگامہ خیز جنرل کونسل اجلاس، سالانہ کارکردگی اور آئینی ترامیم پر غور

اسلام آباد (سٹی رپورٹر ) نیشنل پریس کلب کا جنرل کونسل کا ہنگامہ خیز اجلاس صدر اظہر جتوئی کی زیرصدارت این پی سی میں منعقد ہوا،اجلاس تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا، سیکرٹری نیئر علی نے سالانہ کارکردگی رپورٹ جبکہ فنانس سیکرٹری وقار عباسی نے فنانس رپورٹ پیش کی، آئینی کمیٹی کے سربراہ مبارک زیب خان نے این پی سی آئین میں ترمیم کاآئینی کمیٹی کا تیارہ کردہ مجوزہ مسودہ اجلاس میں پیش کیا،صدر این پی سی اظہر جتوئی نے جنرل کونسل اجلاس میں شرکت پر ممبران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے گزشتہ ایک سال کے دوران ہم سے بچھڑ جانے والے ساتھی سینئر صحافیوں طارق وارثی، مظہر اقبال اور نعیم قریشی کی اگلی منازل کے لیے دعا کی،انہوں نے کہا کہ نیشنل پریس کلب کی باڈی آئین کی پاسداری اور مقررہ وقت پر الیکشن کروانے کی بھی پابند ہے،اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ منتخب باڈی آئین میں دئیے گئے مقررہ ٹائم میں انتخابات کرا رہی ہے،گزشتہ ایک سال خدمت کا یہ سفر انتہائی دشوار اور صبر آزما تھا ایک طرف ساتھیوں کے مشکل حالات تھے اور دوسری طرف نیشنل پریس کلب اور باڈی کیلئے آزمائشیں ہی آزمائشیں تھیں ۔

ہم نے ہمت اور ساتھیوں نے حوصلہ نہیں ہارا ،تنخواہوںکی عدم ادائیگی ،بےروزگاری، مالی مشکلات کا شکار ممبران اور ان کی فیملیز کی فلاح و بہبود کے لیے ان کی عزت نفس کو مجروح کیے بغیر ان کی مالی مدد کی گئی، رمضان فیسٹیول کے دوران مختلف مقابلوں میں شرکت کرنے والے ممبران اور ان کی فیملیز کو پرکشش انعامات اور عید گفٹ دئیے گئے، عید الاضحی کے موقع پر بھی تقریبات کا انعقاد کیا گیا اور عید کے تینوں دن معزز ممبران نے اپنی فیملیز کے ساتھ عید منائی اور مزے دار کھانے اور میوزیکل شو سے لطف اندوز ہوئے، اس سال بھی رمضان فیسیول اور عید فیملی گالابھرپور انداز میں منانے کی تیاریاں جاری ہیں، جس میں ممبران اور انکی فیملیز کیلئے شاندار افطار ڈنر دیا جائیگا اور بچوں کے درمیان قرآت اورنعتیہ مقابلے بھی کروائے جائینگے اور ان مقابلوں میں شرکت کرنے والے تمام بچوں میں نقد انعامات تقسیم کئے جائینگے۔ پاکستان کی میڈیا انڈسٹری اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے،آئے روز بڑھتی ہوئی مہنگائی نےجہاں عام آدمی کو شدید متاثر کیا ہے وہیں میڈیا ہاؤسز کی جانب سےصحافیوں کی جبری برطرفیاں، تنخواہوں میں تاخیر اور عدم ادائیگی جیسے اقدامات نےکارکن صحافیوں اور ورکرز کو شدید پریشانی میں مبتلا کر رکھاہے۔ہم اپنے ساتھیوں کیلئے اس سے کہیں زیادہ کرنا چاہتے تھے جتنا ہم کر پائے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ باڈی نے این پی سی کا نام اور لوگو انٹرنیشنل پراپرٹی رائٹ میں رجسٹر کروایا تاکہ کوئی دوسرا یہ نام اور لوگو استعمال نہ کرسکے ، خلاف وزری پر این پی سی اس پر قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتا ہے، سیکرٹری این پی سی نیئر علی نے سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل پریس کلب کے ممبر گورننگ باڈی نویدشیخ کے تعاون سے ممبران کی سہولت کے لیےآئی ٹی روم کی تزئین و ارائش کی گئی ہے اور نئے کمپیوٹر سسٹم نصب کیے گئے ہیں،نیشنل پریس کلب نے اوجی ڈی سی ایل کے تعاون سے ممبران کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے اسٹیٹ آف دی آرٹ نیا فلٹریشن پلانٹ کی نصب کیا ہے۔

نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں فلٹریشن پلانٹ نے کام شروع کر دیا ہے جبکہ راولپنڈی کیمپ آفس میں بھی یہ عمل جلد مکمل ہو جائے گا۔ ممبران اور ان کی فیملیز کی سہولت کے لیے نیشنل پریس کلب نے ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے تین روز تک نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں خصوصی پوائنٹ قائم کیا۔ ممبران کے اصرار پر دو بار ایک روزہ کیمپ بھی لگائے گئے۔ جس میں ہمارے ممبران نے اور ان کی فیملیزنے اپنی گاڑیوں پر بغیر لائنوں میں لگے اور گھنٹوں انتظار کی زحمت کے ایم ٹیگ لگوائے،نیشنل پریس کلب کی اسکروٹنی کمیٹی نے گزشتہ برس پورا سال کام کیا۔ بھرپور کاوش کر کے جہاں ایسوسی ایٹ ممبرشپ کی اسکروٹنی کا عمل مکمل کیا ۔اس کے علاوہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد اور کیمپ آفس راولپنڈی میں ٹریفک پولیس کے تعاون سے ممبران اور ان کی فیملیز کے لیے ڈرائیونگ لائسنس بنوانے ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید اور خصوصی فسلٹیشن وینز کے ذریعے کریکٹر سرٹیفکیٹ بنوانےکی سہولت فراہم کی، مختلف لیبارٹریز اور فارماسوٹیکل کمپنیوں کے تعاون سے میڈیکل کیمپ منعقد کئے گئے، الشفا آئی ہاسپٹل کے تعاون سے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ہم نے اپنے ممبران اور ان کی فیملیز کی آنکھوں کے علاج معالجہ کے لیے دو دن کا خصوصی کیمپ قائم کیا جس میں ملک کے معروف اور ماہر آئی سپیشلسٹس نے سینکڑوں مریضوں کا نہ صرف معائنہ کیا بلکہ فری ادویات اور گلاسزبھی فراہم کیں، اس کے علاوہ نہ صرف نیشنل پریس کلب کی تاریخ میں بلکہ پاکستان کے کسی بھی پریس کلب کی تاریخ میں پہلی بار موبائل آپریشن تھیٹر قائم کیا گیا جس میں ممبران نے لاکھوں روپے مالیت کےآپریشن بلا معاوضہ کروا ئے، نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے ممبران کو ٹیکس فائلر بنانے کی سہولت فراہم کرنے کیلئے دو بار ایف بی آر سہولت ڈیسک کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جس میں سینکڑوں ممبران نے اپنے ٹیکس ریٹرنز جمع کرائے،نیشنل پریس کلب میں اپنے معزز مسیحی ممبران اور انکی فیملیز کیلئے کرسمس کے موقع پر رنگا رنگ تقریب اور فیملی ڈنر کا اہتمام کیا گیا اور مسیحی بچوں کو عیدی دی گئی جبکہ پاکستان کی ثقافت کے رنگوں کو اجاگرکرنے کے لئےپنجابی، پختون، سرائیکی، بلوچی، سندھی ،کشمیری، گلگت بلتستان ثقافت کے الگ الگ پروگرام منعقد ہوئے۔

جن میں نیشنل پریس کلب کے ممبران نے بھرپور شرکت کی،گلگت بلتستان جرنلسٹس فورم کے اشتراک سے جشن آزادی گلگت بلتستان کا انعقاد کیا گیا،ترک سفارتخانے کے تعاون سےترکش کلچر ل تصویری نمائش کا انعقاد کیا گیااورجمہوریہ ترکیہ کی کافی کے عالمی دن کے موقع پر تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں ممبران کیلئے کافی کے فری سٹالز لگائے گئے،نیشنل پریس کلب میں متعدد ’’میٹ دی پریس ‘‘پروگرامز منعقد کراوئے ۔جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری، امام مسجد مسجد اقصیٰ، وفاقی وزیر ریلوےحنیف عباسی، وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تاررڑ ،مختلف وفاقی و صوبائی وزراء، نامور قومی شخصیات نے اہم قومی اور عالمی ایشوز پر اپنی رائے کا اظہار کیا،گزشتہ برس بھی ممبران اور اہل خانہ کے اعزاز میں این پی سی اسلام آباد اور راولپنڈی کیمپ آفس میں شاندار فیسٹول کا انعقاد کیا، جس میں قرات اور نعت رسول مقبول کے مقابلہ جات میں ممبران کے بچوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مقابلوں میں حصہ لینے والے ہر بچے کو کیش انعام دیا گیا.

جبکہ مقابلہ جیتنے والے بچوں کوخصوصی کیش پرائزز اور گفٹس دیئے گئے۔بڑھتی ہوئی مہنگائی اور صحافیوں کی معاشی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے، رمضان المبارک کے مقدس مہینے میںکسی بھی ممبر کی عزت کو مجروع کیئے بغیر 1000 راشن پیکجز کی تقسیم کیئے گئے،واتین کرکٹ ٹورنامنٹ میں ونر اور رنر آپ ٹیموں کو ٹرافیوں اور نقد انعامات کے علاوہ ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے والی تمام خواتین کھلاڑیوں میں بھی نقد انعامات تقسیم کئے گئے، این پی سی نے گذشتہ ایک سال کے دوران ملک بھر میں صحافیوں پر ہونے والے حملوں اور مقدمات کے حوالے سے موثر آواز بلند کی، صحافیوں پر مقدمات کا اندراج ہو یا تشدد کے واقعات یا سوشل میڈیا پر صحافیوں خصوصا خواتین کی ٹرولنگ اور حراسانی کی کوشش، نیشنل پریس کلب نے ہر محاذ پر اپنے ممبران کا بھرپور دفاع کیا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا،اس موقع پر سیکرٹری فنانس وقار عباسی نے مالی سال 2025-26 کا مالی گوشوارہ پیش کیا،اجلاس میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ نے کہا کہ مجوزہ آئینی ترامیم ادارے کی مضبوطی کیلئے ہیں کسی کے اقتدار کو دوام بخشنے کیلئے نہیں،یہ ترامیم تمام ممبران کی مشاورت سے کرنا چاہتے ہیں اکثریت کی بنا پر کسی کو روند کر نہیں کیونکہ ہم سب نے چلے جانا ہے اور ادارے نے ہمیشہ قائم رہنا ہے .

انہوں نے اپنی جعلی سیلری سلپ بنانے والوں کی ممبرشپ ختم کرنے اوراین پی سی کی جانب سے انکے خلاف جعل سازی کا مقدمہ درج کروانے کی بھی درخواست کی،اس موقع پر آئینی کمیٹی کے سربراہمبارک زیب خان نے اجلاس کو بتایا کہ آئین میں ترامیم کیلئے این پی سی کے سینئر نائب صدر، سینئر جوائنٹ سیکرٹری کا انتخاب ووٹوں کے اکثریت کے بجائے براہ راست انتخاب کے ذریعے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ ممبر شپ کیٹگری میں اضافے اور کونسل ممبران کو کسی سرکاری ادارے میں کام کرنے کی صورت میں ایسوسی ایٹ لسٹ میں ڈالنے کے بجائے ووٹ کا حق استعمال کرنے سے روکنے اور کسی بھی ممبر کا تجویز یا تائیدکنندہ نہ بننے سے روکنے کی تجویز ہے،لائف ٹائم ممبرکو انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کی ترمیم بھی شامل ہے .

جبکہ طلباء سمیت مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں کو ایسوسی ایٹ ممبر بنانے کے حوالے سے بھی تجویز ہے،اجلاس میں سابق صدور این پی سی انور رضا، شہریار خان، سینئر صحافیوں حاجی نواز رضا، طارق عثمانی، ڈاکٹر سعدیہ کمال، ڈاکٹر عبدالودود قریشی،شکیل احمد و دیگر نے اپنی اپنی تجاویز پیش کیں۔