پاکستان نے اقوام متحدہ میں بچوں کے تعلیم کے حق کے تحفظ کی ضرورت اجاگر کردی

اقوام متحدہ(ویب ڈیسک)پاکستان نے مقبوضہ فلسطین اور بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کی سنگین صورتحال کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں اور ان کےتعلیم کے حق کے تحفظ کا سب سے موثر طریقہ یہ ہے کہ سنگین تنازعات کو سلامتی کونسل کی قراردادوں، اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق حل کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے گزشتہ روز سلامتی کونسل کے تاریخی اجلاس میں ’’تنازعات میں بچے، ٹیکنالوجی اور تعلیم ” کے موضوع پر بحث کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے تنازعات سے دوچار علاقوں بشمول مقبوضہ فلسطین اور بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں لاکھوں بچے کلاس روم اور پُرسکون ماحول کے بجائے ملبے اور افراتفری کی صورتحال میں پروان چڑھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں سکول تباہ یا نقصان کا شکار ہو چکے ہیں یا انہیں عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، اساتذہ بے گھر ہو اور ڈیجیٹل نیٹ ورکس متاثر ہوچکے ہیں۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ تعلیمی نظام جو پہلے ہی کمزور تھا اب تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے ، انہوں نے کہا کہ جب تک تنازعات جاری رہیں ہماری ذمہ داری ہے کہ کسی بھی بچے کا مستقبل ان حالات کی نذر نہ ہو جو اس کے اختیار سے باہر ہیں۔یہ اجلاس امریکا کی درخواست پر منعقد ہوا جو مارچ میں سلامتی کونسل کی صدارت کر رہا ہے۔ اجلاس ایسے غیر معمولی حالات میں ہوا جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا اور تمام فریقوں سے تحمل کی اپیلیں کی جا رہی ہیں ، سلامتی کونسل نے جنگ زدہ علاقوں میں بچوں کو درپیش دیرینہ بحران پر توجہ مرکوز کی۔

پاکستانی مندوب نے امریکی خاتونِ اول کے اقدام ’’فوسٹرنگ دی فیوچر ٹوگیدر انیشی ایٹو‘‘ کا خیرمقدم کیا جس کا مقصد تعلیم، جدت اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے ذریعے بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے عالمی اتحاد قائم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس انیشی ایٹو میں شامل ہونے پر خوش ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف جدت اور ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ انسانی وقار کے تحفظ اور اس امر کو یقینی بنانے کا ہے کہ تنازع کسی پوری نسل کا مستقبل نہ چھین لے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ تنازعات میں تعلیم کا نقصان محض اتفاقی نہیں بلکہ اکثر منظم نوعیت کا ہوتا ہے جو صدمے کو بڑھاتا اور تنازعات کے چکر کو جاری رکھتا ہے، جب تعلیم طویل عرصے تک معطل رہتی ہے تو اس کے اثرات نسلوں تک پھیل جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ تعلیم محض ایک خدمت نہیں بلکہ استحکام اور تحفظ کا ذریعہ ہے، جب تعلیم سے محرومی ہو تو بچے استحصال، سمگلنگ اور انتہاپسندی کا زیادہ شکار ہوتے ہیں جبکہ محفوظ تعلیم لچک، تنقیدی سوچ اور امید کو فروغ دیتی ہے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور موبائل لرننگ ٹولز تنازعہ زدہ علاقوں میں بے گھر یا الگ تھلگ بچوں تک رسائی ممکن بنا سکتے ہیں، آن لائن تعلیم اُس وقت تسلسل برقرار رکھ سکتی ہے جب روایتی کلاس روم دستیاب نہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سمیت ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز ذاتی نوعیت کی اور جامع تعلیم کے مواقع فراہم کر سکتی ہیں،تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی کو احتیاط کے ساتھ منظم کرنا ضروری ہے کیونکہ حفاظتی اقدامات کے بغیر رسائی خطرات کو جنم دے سکتی ہے۔ ڈیجیٹل ماحول بچوں کو استحصال، غلط معلومات، نفرت انگیز تقاریر، نگرانی (surveillance) اور تشدد کے خطرات سے دوچار کر سکتے ہیں اس ضمن میں انہوں نے تنازع سے متاثرہ علاقوں میں ڈیجیٹل فرق ختم کرنے کے لیے مضبوط انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری، سستی انٹرنیٹ سہولت، آلات کی فراہمی بالخصوص لڑکیوں اور معذور بچوں کو ترجیح دینے اور ڈیجیٹل تعلیمی اقدامات میں بچاؤ کے اصولوں کو شامل کرنے پر زور دیا نیز رکن ممالک، اقوامِ متحدہ، سول سوسائٹی اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ پیچیدہ تنازعات کے ماحول میں ٹیکنالوجی کا موثر استعمال ایک ڈھال اور ایک پل دونوں کا کردار ادا کر سکتا ہے جو بچوں کو تحفظ، تعلیم اور ترقی کا حق دلانے کے ساتھ ساتھ لچک ، وقار اور پائیدار امن کے قیام میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔