اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے خطے کی بدلتی صورتحال کے پیش نظر بندرگاہوں کی تیاریوں کا جائزہ لینے اور پاکستانی بندرگاہوں کو علاقائی ٹرانزٹ و ٹرانس شپمنٹ حب بنانے کی حکمت عملی پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔
پریس ریلیز کے مطابق اجلاس میں شپنگ لائنز، ٹرمینل آپریٹرز اور دیگر اہم اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی، جہاں بلا تعطل سمندری تجارت کے فروغ، آپریشنل کارکردگی میں بہتری، فیڈر کنیکٹیویٹی کے استحکام اور کاروباری طریقہ کار کو سادہ بنانے پر غور کیا گیا۔ کراچی کو ایک قابلِ اعتماد میری ٹائم گیٹ وے کے طور پر فروغ دینے پر بھی زور دیا گیا اجلاس میں ریگولیٹری چیلنجز، ڈیجیٹلائزیشن، اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ہم آہنگی اور علاقائی کارگو کے حصول کے امکانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت پاکستانی بندرگاہوں کو علاقائی ٹرانس شپمنٹ مرکز بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ مربوط حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔ انہوں نے بندرگاہوں کی استعداد بڑھانے، لاجسٹکس نیٹ ورک کو مضبوط بنانے اور فیڈر سروسز کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا انہوں نے مزید کہا کہ ریگولیٹری فریم ورک میں بہتری، ڈیٹنشن چارجز جیسے مسائل کے حل اور ٹرمینلز کی ہینڈلنگ صلاحیت میں اضافے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ بندرگاہوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔
چیئرمین کے پی ٹی ریئر ایڈمرل شاہد احمد (ر) نے بتایا کہ کراچی بندرگاہ پر گاڑیوں اور ایس یو ویز کی ہینڈلنگ کے لیے اضافی جگہ مختص کر دی گئی ہے، جس سے کاروباری سرگرمیوں میں آسانی ہوگی وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ ملک کی تینوں بڑی بندرگاہوں کی کارکردگی اور سہولیات کو اجاگر کرنے کے لیے باقاعدہ نیوز لیٹر جاری کیا جائے اور بین الاقوامی سطح پر مؤثر مارکیٹنگ کو یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں ایڈیشنل سیکریٹری بحری امور عمر ظفر شیخ، چیئرمین کے پی ٹی، پاکستان شپ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد راجپر، آل پاکستان شپنگ ایسوسی ایشن کے صدر عبداللہ فرخ اور دیگر نمائندگان نے شرکت کی، جبکہ شرکاء نے وزیر کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا.

