اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان اور روس کے تعلقات گزشتہ دو دہائیوں میں نمایاں طور پر مضبوط اور عملی تعاون کی سمت میں آگے بڑھے ہیں، جبکہ دونوں ممالک 2030 تک کے اقتصادی تعاون کے پروگرام پر دستخط کے لیے متفق ہو چکے ہیں.
“بدلتے ہوئے عالمی نظام کے تناظر میں پاکستان اور روس کے دوطرفہ تعلقات” کے موضوع پر منعقدہ ویبینار سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی سیاست میں آنے والی ساختی تبدیلیوں کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات نئی جہت اختیار کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق سوویت دور سے جڑی پرانی بداعتمادی اب کمزور ہو چکی ہے اور تعلقات “غیر دوستانہ” کے تصور سے آگے بڑھ کر باہمی اعتماد کی سطح تک پہنچ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تجارت، توانائی، دفاع اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ میں اعلیٰ سطحی روابط نے اہم کردار ادا کیا ہے، جس کی مثال وزیراعظم محمد شہباز شریف اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان حالیہ برسوں میں ہونے والی متعدد ملاقاتیں ہیں.
وفاقی وزیر نے روس-پاکستان بین الحکومتی کمیشن (IGC) کو دوطرفہ تعلقات کی بنیادی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جانب سے روسی وزیر توانائی سرگئی تسیویلیف کے ساتھ مسلسل رابطے مختلف شعبوں میں پیش رفت کا باعث بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ جاتی فریم ورک دونوں ممالک کے وسیع تر تعاون کو مضبوط بنا رہا ہے۔
ان کے مطابق سلامتی، انسداد دہشت گردی اور تزویراتی استحکام جیسے شعبوں میں بھی تعاون کا باقاعدہ نظام موجود ہے، جبکہ دونوں ممالک اقوام متحدہ اور شنگھائی تعاون تنظیم سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر ایک ہم آہنگ مؤقف رکھتے ہیں۔
علاقائی روابط پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی شمال-جنوب ٹرانسپورٹ کوریڈور (INSTC) میں شمولیت کا خواہاں ہے، اور روس کی جانب سے اس منصوبے کو گوادر بندرگاہ سے منسلک کرنے کی تجویز کا خیرمقدم کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے ساتھ ایک اہم رابطہ فراہم کر سکتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ روسی قیادت نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا ہے، جو پاکستان کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار کی عکاسی کرتا ہے، وفاقی وزیر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعاون میں اضافے کی وسیع گنجائش موجود ہے اور ادائیگیوں کے نظام سمیت بعض ساختی رکاوٹوں کے حل کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں، اس سلسلے میں پاکستان اور روس 2030 تک اقتصادی تعاون کے پروگرام پر دستخط کے لیے متفق ہو چکے ہیں، جو دوطرفہ اقتصادی تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ہوگا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حال ہی میں بشکیک میں روس-پاکستان ری ایڈمیشن معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں، جس سے ویزا سہولتوں میں بہتری، کاروباری روابط میں اضافہ اور عوامی سطح پر تبادلوں کو فروغ ملے گا، اپنے خطاب کے اختتام پر سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ پاکستان اور روس کے تعلقات صرف دوطرفہ تعاون تک محدود نہیں بلکہ یہ وسیع تر یوریشیائی اقتصادی انضمام اور علاقائی استحکام کے لیے بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

