اسلام آباد(سٹی رپورٹر)نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے رہنماؤںسابق گورنر سندھ عمران اسماعیل، سابق وفاقی وزراء فواد چوہدری، محمد علی درانی، بیرسٹر محمد علی سیف اور دیگر رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت کی کارکردگی پر شدید تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ موجودہ حکومت فوری طور پر مستعفی ہو کر قومی حکومت (نیشنل یونٹی گورنمنٹ) کے قیام کی راہ ہموار کرے کیونکہ موجودہ حکومت گورننس، معیشت، سیکیورٹی اور عوامی فلاح کے تمام شعبوں میں ناکام ہو چکی ہے.
ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی مفاہمت، سیاسی استحکام اور تمام جمہوری قوتوں کے درمیان مکالمہ ناگزیر ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کے لیے قومی حکومت اور نئے انتخابات ہی دیرپا حل ثابت ہو سکتے ہیں،نیشنل پریس کلب اسلام آباد میںپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران اسماعیل نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ بین الاقوامی کشیدگی کے دوران امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ عالمی رہنماؤں کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا گیا اور اس کامیابی پر پوری قوم کو فخر ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن قومی کامیابیوں کو بطور قوم منانا ضروری ہے۔بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر جو پذیرائی ملی ہے اسے اندرون ملک امن اور استحکام کے قیام کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، انہوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے جامع قومی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی عدم استحکام اور قیادت پر عوامی اعتماد کے فقدان کے باعث ملکی مسائل مزید پیچیدہ ہو رہے ہیں۔سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے کراچی کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے بنیادی مسائل حل نہیں ہو سکے اور سیاسی جماعتوں کو باہمی اختلافات ختم کر کے عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے، انہوں نے سیاسی مفاہمت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے داخلی سیاسی بحرانوں کا حل بھی مذاکرات اور افہام و تفہیم میں ہے۔
فواد چوہدری نے وفاقی بجٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت پانچواں بجٹ پیش کرنے کے باوجود معیشت کو مستحکم کرنے میں ناکام رہی ہے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ مہنگائی، بے روزگاری اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ عوام کی زندگی اجیرن بنا چکا ہے، ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں متوسط اور تنخواہ دار طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے جبکہ زراعت، صنعت اور تجارت بھی بحران سے دوچار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو سیاسی استحکام اور معاشی بحالی کے لیے قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ فواد چوہدری کے مطابق موجودہ سیاسی تقسیم کے باعث بڑے قومی منصوبے متاثر ہو رہے ہیں اور قومی حکومت ہی موجودہ بحرانوں سے نکلنے کا راستہ فراہم کر سکتی ہے، پریس کانفرنس کے اختتام پر محمد علی درانی نے نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی جانب سے اہم اعلانات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت گورننس، معیشت، سیکیورٹی اور عوامی فلاح کے تمام شعبوں میں ناکام ہو چکی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم اور موجودہ حکومت فوری طور پر مستعفی ہو کر قومی حکومت کے قیام کی راہ ہموار کریں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی ملک بھر میں “نیشنل یونٹی کمپین” شروع کرے گی جس کا مقصد تمام سیاسی جماعتوں، اپوزیشن قیادت اور قومی اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے ملک کو سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی بحرانوں سے نکالنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینا ہوگا، رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی مفاہمت، سیاسی استحکام اور تمام جمہوری قوتوں کے درمیان مکالمہ ناگزیر ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کے لیے قومی حکومت اور نئے انتخابات ہی دیرپا حل ثابت ہو سکتے ہیں۔

