سینیٹ نے ٹیلی کام ترمیمی بل 2026 روک دیا، شق 27-بی پر عوامی حقوق کی مبینہ خلاف ورزی کے الزامات اور شدید تنازع

اسلام آباد (سپیشل پورٹر) موبائل کمپنیوں کے ٹاور لگانے کے معاملے میں وفاقی وزیر ائی ٹی نے 25 کروڑ عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کا بل قومی اسمبلی سے منظور کروا لیا بل سینٹ میں پہنچا تو انکشاف ہوا کہ یہ عوام کے حقوق پر ڈاکہ ہے سینٹ میں بل روک دیا گیا ذرائع کے مطابق ائی ٹی کی وفاقی وزیر شزا فاطمہ سیکرٹری ائی ٹی اور موبائل کمپنیوں کی مبینہ ملی بھگت سے ایک بل قومی اسمبلی میں چپکے سے پیش کر دیا گیا .

جو ایوان نے انکھیں بند کر کے منظور کر لیا ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بل پیپلز پارٹی مسلم لیگ نون اور پی ٹی ائی کے ارکان بھی اس بل کے خلاف بولنے کی بجائے خاموش رہے اور خاموشی سے ہی بل پاس کر دیا معاملہ جب سینٹ میں پہنچا پلوشہ خان نے جب اس کو پڑھا تو انکشاف ہوا کہ یہ بل عوام کے حقوق پر ڈاکہ ہے اور ٹیلی کام کمپنیوں کو نوازنے کے لیے خاموشی سے یہ بل قومی اسمبلی سے پاس کروایا گیا .

سینٹ میں ٹیلی کام ترمیمی بل 2026 پر تنازع، سینیٹ میں شدید اعتراضات کے بعد غور موخر ، پاکستان میں انٹرنیٹ اور ٹیلی کام نظام کو بہتر بنانے کے لیے پیش کیے گئے مجوزہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل 2026 پر شدید سیاسی اور عوامی بحث شروع ہو گئی ہے، بل میں شامل ایک نئی شق 27-بی کو تنازع کی اصل وجہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ شہریوں کی نجی جائیداد کے حقوق پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق، شق 27-بی میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی مکان مالک، کرایہ دار، دکان دار یا ادارہ انٹرنیٹ کمپنیوں کو فائبر کیبل بچھانے، موبائل ٹاور نصب کرنے یا دیگر نیٹ ورک انفراسٹرکچر کے لیے راستہ دینے سے انکار کرے یا رکاوٹ ڈالے تو اس پر بھاری جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، جو بعض صورتوں میں کروڑوں روپے تک پہنچ سکتا ہے۔

یہ معاملہ سب سے پہلے صحافتی حلقوں میں اس وقت زیر بحث آیا جب سینیئر صحافیوں نے اس بل کی تفصیلات سامنے لائیں، جس کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا، مختلف صحافیوں اور ماہرین نے اسے شہری حقوق اور نجی ملکیت کے لیے خطرہ قرار دیا۔

دوسری جانب، حکومت کا مؤقف ہے کہ اس بل کا مقصد ملک میں انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا، فائبر نیٹ ورک کو وسعت دینا اور مستقبل میں فائیو جی ٹیکنالوجی کے لیے راہ ہموار کرنا ہے، حکام کے مطابق، رائٹ آف وے کے مسائل اور ادارہ جاتی تاخیر کے باعث ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے، جسے ختم کرنا ضروری ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں بل پر تفصیلی بحث ہوئی، جہاں متعدد سینیٹرز نے شق 27-بی کی زبان اور ممکنہ اثرات پر سخت تحفظات کا اظہار کیا۔ ارکان کا کہنا تھا کہ قانون کی موجودہ شکل میں یہ خدشہ موجود ہے کہ عام شہریوں کی نجی جائیداد متاثر ہو سکتی ہے، کمیٹی ارکان نے واضح کیا کہ کسی بھی شہری کو اپنی ملکیت کے استعمال پر زبردستی مجبور نہیں کیا جا سکتا، اور اگر ایسا کوئی قانون بنایا جاتا ہے تو اس میں واضح حفاظتی ضمانتیں اور شفاف قانونی طریقہ کار شامل ہونا ضروری ہے۔

اجلاس میں یہ بھی خدشہ ظاہر کیا گیا کہ مبہم الفاظ کی وجہ سے انٹرنیٹ کمپنیوں کو غیر معمولی اختیارات مل سکتے ہیں، جس سے زمین یا مکان مالکان کے حقوق متاثر ہونے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے، دوسری جانب ٹیلی کام سیکٹر کے نمائندوں نے بل کے حق میں مؤقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس قانون کا مقصد کسی کی زمین پر قبضہ نہیں بلکہ انفراسٹرکچر کی بروقت تنصیب کو یقینی بنانا ہے۔ ان کے مطابق، موجودہ رکاوٹوں کی وجہ سے ملک میں انٹرنیٹ سروسز کی بہتری متاثر ہو رہی ہے۔

وفاقی وزیر برائے آئی ٹی نے وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کا مقصد کسی شہری کی جائیداد پر زبردستی قبضہ کرنا ہرگز نہیں۔ ان کے مطابق، بل میں موجود متنازعہ الفاظ پر نظرثانی کی جائے گی اور اسے مزید واضح اور قابلِ فہم بنایا جائے گا، وزیر نے یہ بھی کہا کہ نجی جائیداد پر کسی بھی منصوبے کی تنصیب ہمیشہ باہمی رضامندی اور موجودہ قانونی تقاضوں کے مطابق ہی کی جاتی ہے۔

سینیٹ کمیٹی نے شدید اعتراضات کے بعد بل کی منظوری مؤخر کرتے ہوئے اسے مزید غور کے لیے واپس بھیج دیا ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ آئندہ اجلاس میں بل کی ہر شق کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا تاکہ شہریوں کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے، ابھی کے لیے یہ معاملہ پارلیمانی بحث اور نظرثانی کے مرحلے میں ہے، جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس پر مزید مشاورت متوقع ہے۔